مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الرِّيحِ . باب: ہوا خارج ہونے پر وضو کرنا
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : أَتَتْ سَلْمَى مَوْلَاةُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةَ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَبِي رَافِعٍ قَدْ ضَرَبَهَا . قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي رَافِعٍ : " مَالَكَ وَلَهَا يَا أَبَا رَافِعٍ ؟ " قَالَ : تُؤْذِينِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِمَ آذَيْتِهِ يَا سَلْمَى ؟ " قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا آذَيْتُهُ بِشَيْءٍ ، وَلَكِنَّهُ أَحْدَثَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا رَافِعٍ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَحَدِهِمُ الرِّيحُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ، فَقَامَ يَضْرِبُنِي . فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَضْحَكُ وَيَقُولُ : " يَا أَبَا رَافِعٍ ، إِنَّهَا لَمْ تَأْمُرْكَ إِلَّا بِخَيْرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز سلمی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابورافع کی اہلیہ تھیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اور آپ کو یہ بات بتائی کہ ابورافع نے اُس کی پٹائی کی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع سے کہا: اے ابورافع ! تمہارا اس عورت کے ساتھ کیا معاملہ ؟ انہوں نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! یہ مجھے اذیت پہنچاتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : سلمی تم اُسے اذیت کیوں پہنچاتی ہو ؟ اس عورت نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میں انہیں کوئی اذیت نہیں پہنچاتی ہوں ، یہ نماز ادا کرنے کے دوران بے وضو ہو گئے ، تو میں نے کہا: اے ابورافع ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے ، کہ جب اُن میں سے کسی کی ہوا خارج ہو جائے ، تو وہ شخص وضو کر لے ، تو یہ اس بات پر مجھے مارنے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنسنا شروع کر دیا اور ارشاد فرمایا : اے ابورافع ! یہ تمہیں صرف بھلائی کا حکم دیتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، اور اُس نے یہ کہا: ہے : ہشام بن عروہ نے مجھے حدیث بیان کی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔