مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَنْكُوسًا . باب: اس شخص کا بیان ، جو قرآن کو الٹا پڑھے
حدیث نمبر: 11686
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَنْكُوسًا ؟ فَقَالَ : ذَاكَ مَنْكُوسُ الْقَلْبِ . فَأُتِيَ بِمُصْحَفٍ قَدْ زُيِّنَ وَذُهِّبَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : إِنَّ أَحْسَنَ مَا زُيِّنَ بِهِ الْمُصْحَفُ تِلَاوَتُهُ فِي الْحَقِّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو قرآن کو الٹا پڑھتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ ایک ایسا شخص ہے جس کا دل اُلٹا ہوا ہے ۔ پھر ایک قرآن مجید لایا گیا ، جسے سجایا گیا تھا اور اس پر سونا لگایا تھا ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس چیز کے ذریعے قرآن مجید کو سجایا جاتا ہے ، ان میں سب سے خوبصورت چیز یہ ہے کہ حق کے مطابق اس کی تلاوت کی جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔