حدیث نمبر: 11618
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : فُصِلَ الْقُرْآنُ مِنَ الذِّكْرِ ، فَوُضِعَ فِي بَيْتِ الْعِزَّةِ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَجَعَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَتْلُوهُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَتِّلُهُ تَرْتِيلًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي سُورَةِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : لوح محفوظ سے قرآن کو الگ کیا گیا اور اُسے آسمان دنیا میں ” بیت العزت “ میں رکھ دیا گیا اور پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام اسے تھوڑا ، تھوڑا لا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلاوت کرتے رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے سورت قدر سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11618
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف