مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 88 - سُورَةُ أَلَمْ نَشْرَحْ باب: سورت انشراح کا بیان
حدیث نمبر: 11501
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا ، فَنَظَرَ إِلَى جُحْرٍ بِحِيَالِ وَجْهِهِ فَقَالَ : " لَوْ كَانَتِ الْعُسْرَةُ تَجِيءُ حَتَّى تَدْخُلَ هَذَا الْجُحْرَ لَجَاءَتِ الْيُسْرَةُ حَتَّى تُخْرِجَهَا " . ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَائِذُ بْنُ شُرَيْحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، آپ نے اپنے سامنے موجود ایک بل کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ” اگر تنگی آ کر اس بل میں داخل ہو جائے ، تو آسانی آئے گی اور اسے نکال دے گی “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے ، بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مائذ بن شریح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔