مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ ہم تمہیں ایسا پڑھائیں گے کہ تم نہیں بھولو گے “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِالْوَحْيِ لَمْ يَفْرَغْ حَتَّى يُزَمَّلَ مِنَ الْوَحْيِ حَتَّى يَتَكَلَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَوَّلِهِ مَخَافَةَ أَنْ يُغْشَى عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : لِمَ تَفْعَلُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " مَخَافَةَ أَنْ أَنْسَى " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جُوَيْبِرٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی لے کر آتے تھے ، تو ان کے وحی کو سنا کر فارغ ہونے سے پہلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ابتدائی حصے کو دہرانا شروع کر دیتے تھے ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ آپ کو بھول نہ جائے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس اندیشے کے تحت کہ کہیں میں بھول نہ جاؤں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” ہم تمہیں ایسا پڑھائیں گے کہ تم نہیں بھولو گے “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔