مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 69 - سُورَةُ الْمُزَّمِّلِ باب: سورت مزمل کا بیان
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : اجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ فِي دَارِ النَّدْوَةِ ، فَقَالَتْ : سَمُّوا هَذَا الرَّجُلَ اسْمًا يَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ . قَالُوا : كَاهِنٌ . قَالُوا : لَيْسَ بِكَاهِنٍ . قَالُوا : مَجْنُونٌ . قَالُوا : لَيْسَ بِمَجْنُونٍ . قَالُوا : سَاحِرٌ . قَالُوا : لَيْسَ بِسَاحِرٍ . فَتَفَرَّقَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى ذَلِكَ . فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَزَمَّلَ فِي ثِيَابِهِ وَتَدَثَّرَ فِيهَا ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : قَالُوا : يُفَرِّقُ بَيْنَ الْحَبِيبِ وَحَبِيبِهِ ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَاسِطِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي سُورَةِ الْمُدَّثِّرِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش دارالندوہ میں اکٹھے ہوئے اور بولے : ان صاحب کو کوئی ایسا نام دو کہ جس کی وجہ سے لوگ ان سے دور ہو جائیں ، تو ان لوگوں نے کہا: کاہن کہہ دیتے ہیں تو دوسروں نے کہا: کہ وہ کاہن نہیں ہیں ، کچھ نے کہا: مجنون کہہ دیتے ہیں ، کچھ نے کہا: یہ مجنون بھی نہیں ہیں ، کچھ نے کہا: جادوگر کہہ دیتے ہیں ، انہوں نے کہا: یہ جادوگر بھی نہیں ہیں ، پھر مشرکین اسی صورت حال پر ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے اپنی چادر کو لیا اور اسے اوڑھ لیا ، سیدنا جبرائیل آپ کے پاس آئے اور بولے : ﴿يَأَيُّهَا الْمُزمِلُ - يَأَيُّهَا الْمُدَّثِر﴾
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : کہ دوست اور دوست کے درمیان علیحدگی ہو گئی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی معلی بن عبدالرحمن واسطی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث سورت مدثر کی تفسیر میں آئے گی ۔