مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جس کو نفس کے بخل سے بچا لیا گیا ، تو یہی لوگ کامیابی پانے والے ہیں “
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَإِنِّي امْرُؤٌ مَا قَدَرْتُ عَلَى أَنْ يَخْرُجَ مِنِّي شَيْءٌ ، وَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ أَصَابَتْنِي هَذِهِ الْآيَةُ ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : ذَكَرْتَ الْبُخْلَ وَبِئْسَ الشَّيْءُ الْبُخْلُ ، وَأَمَّا مَا ذَكَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْقُرْآنِ فَلَيْسَ مَا قُلْتَ ، ذَاكَ أَنْ تَعْمَدَ إِلَى مَالِ غَيْرِكَ - أَوْ قَالَ : أَخِيكَ - فَتَأْكُلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤اسود بن ہلال بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اُن سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا : ” اور جس شخص کو نفس کے بخل سے بچا لیا گیا ، تو یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں “ ۔ اس شخص نے کہا: میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میں اس بات کی قدرت نہیں رکھتا کہ میری طرف سے کوئی چیز جائے اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس آیت کا حکم مجھ پر بھی لاگو ہو گا ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے بخل کا ذکر کیا ہے اور بخل ایک بری چیز ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا قرآن میں ذکر کیا ہے ، وہ یہ چیز نہیں ہے ، جو تم نے بیان کی ہے ، اس سے مراد یہ ہے کہ تم کسی دوسرے کے مال ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنے بھائی کے مال کی طرف جاؤ اور اُسے کھا لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔