مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 48 - سُورَةُ الْفَتْحِ قَوْلُهُ تَعَالَى : لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ باب: سورت فتح کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تاکہ ان کے ایمان کے ہمراہ ، ایمان میں اضافہ ہو جائے “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَلَمَّا صَدَّقُوا زَادَهُمُ الْحَجَّ ، فَلَمَّا صَدَّقُوا زَادَهُمُ الْجِهَادَ ، ثُمَّ أَكْمَلَ لَهُمْ دِينَهُمْ فَقَالَ : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَأَوْثَقُ إِيمَانِ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ[ أَهْلُ ] الْأَرْضِ [ وَأَصْدَقُهُ وَأَكْمَلُهُ ] شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، قِيلَ فِيهِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ وَقَدْ ضُعِّفَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تا کہ اُن لوگوں کے ایمان کے ہمراہ ، ایمان میں اضافہ ہو جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بات کی گواہی کے ہمراہ مبعوث کیا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جب ان لوگوں نے اس بات کی تصدیق کر دی ، تو اللہ تعالیٰ نے حج کا مزید حکم دیا ، جب ان لوگوں نے اس کی بھی تصدیق کر دی ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں جہاد کا مزید حکم دیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے ان کے دین ( کے احکام ) کو مکمل کر دیا اور یہ ارشاد فرمایا : ” آج کے دن ، میں نے تم لوگوں کے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ، اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کر دیا ، اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے سے راضی ہو گیا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : تو زمین والوں اور آسمان والوں میں سے ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ مضبوط اور سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ مکمل ( عمل ) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے ، یہ ثقہ اور مامون ہے ، ویسے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔