مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ تعالیٰٰ کی ذات وہ ہے ، جو ہواؤں کو بھیجتا ہے “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : ( اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا ) يَقُولُ : قِطَعًا بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ . فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ مِنْ بَيْنِهِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اللہ تعالیٰ وہ ہے ، جو ہواؤں کو بھیجتا ہے ، تو وہ بادل کو لے کر چلتی ہیں اور پھر وہ اس ( بادل ) کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے ، جیسے وہ چاہتا ہے اور اسے ” کسف“ بنا دیتا ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ” یہاں کسف “ سے مراد ، ایسے ٹکڑے ہیں ، جو ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہوں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تم بارش کو دیکھتے ہو کہ اس کے ” خلال “ میں سے نکلتی ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی اس میں سے نکلتی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔