مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 31 - سُورَةُ الرُّومِ قَوْلُهُ تَعَالَى : فِي بِضْعِ سِنِينَ . باب: سورت روم کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ چند سالوں میں “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبِضْعُ مَا بَيْنَ السَّبْعِ إِلَى الْعَشَرَةِ " . قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ " الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشَرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ قَالَ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ : كَانَ مَالِكٌ يَرْضَاهُ وَكَانَ ثِقَةً . قُلْتُ : وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لفظ “ بضع “ سات سے لے کر دس تک کے درمیان کے لئے استعمال ہوتا ہے “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ترمذی نے
یہ روایت نقل کی ہے کہ لفظ ” بضع “ دس سے کم کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے ، سعید بن منصور کہتے ہیں : امام مالک اس سے راضی تھے ، یہ ثقہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔