حدیث نمبر: 11057
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الطُّهُورُ الَّذِي أَثْنَى اللَّهُ عَلَيْكُمْ ؟ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا خَرَجَ مِنَّا رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ مِنَ الْغَائِطِ إِلَّا غَسَلَ فَرْجَهُ - أَوْ قَالَ : مَقْعَدَتَهُ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ هَذَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الطَّهَارَةِ مِنْ هَذَا النَّحْوِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” اس میں ایسے لوگ ہیں جو یہ پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ طہارت کا وہ طریقہ کیا ہے جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے ؟ تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے جو بھی مرد یا عورت قضائے حاجت کے لیے جاتا ہے ، تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی وجہ یہی ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس نوعیت کی کچھ احادیث طہارت کے ابواب میں اس سے پہلے گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11057
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11065)»