مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَكْفِي مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ . باب: وضو اور غسل کے لئے کتنا پانی کفایت کا جاتا ہے؟
حدیث نمبر: 1105
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ سَيْفُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ سِنَانُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ : سِنَانُ بْنُ هَارُونَ أَخُو سَيْفِ بْنِ هَارُونَ ، وَهُوَ أَحْسَنُ حَالًا مِنْ أَخِيهِ . وَقَدْ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ . ¤محمد محی الدین
سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد ( پانی ) کے ذریعے وضو اور ایک صاع کے ذریعے غسل کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم اوسط کی سند میں ایک راوی سیف بن محمد ہے اور وہ کذاب ہے ، معجم کبیر کی سند میں ایک راوی سنان بن ہارون ہے ، یحییٰ بن معین کہتے ہیں : سنان بن ہارون ، سیف بن ہارون کا بھائی ہے اور یہ اپنے بھائی سے زیادہ بہتر حالت کا مالک ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔