مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَكْفِي مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ . باب: وضو اور غسل کے لئے کتنا پانی کفایت کا جاتا ہے؟
حدیث نمبر: 1099
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : كَمْ يَكْفِينِي لِلْوُضُوءِ ؟ قَالَ : مُدٌّ . قَالَ : كَمْ يَكْفِينِي لِلْغُسْلِ ؟ قَالَ : صَاعٌ . قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : لَا يَكْفِينِي ، فَقَالَ : لَا أُمَّ لَكَ ، قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے دریافت کیا میرے لئے وضو کے لئے کتنا پانی کفایت کر جائے گا ؟ انہوں نے جواب دیا : ایک مد ، اس نے دریافت کیا اور غسل کے لئے میرے لیے کتنا پانی کفایت کرے گا ؟ انہوں نے جواب دیا : ایک صاع اس شخص نے کہا: یہ تو میرے لئے کافی نہیں ہو گا ، انہوں نے فرمایا : تمہاری ماں نہ رہے ، یہ اُن کے لیے کفایت کر جاتا تھا ، جو تم سے بہتر تھے ، یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔