مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے لایا گیا ہے “
حدیث نمبر: 10898
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، قَالَ : هُمُ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ مُحَمَّدٍ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور تم برائی سے منع کرتے ہو “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔