مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ہمارے پروردگار تو ہمارے اس شہر کو امن والا بنا دے اور یہاں کے رہنے والوں کو مختلف پھلوں میں سے رزق عطا فرما دے ان میں سے جو بھی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو “
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كَانَ إِبْرَاهِيمُ احْتَجَرَهَا دُونَ النَّاسِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : ( وَمَنْ كَفَرَ ) أَيْضًا فَأَنَا أَرْزُقُهُمْ كَمَا أَرْزُقُ الْمُؤْمِنِينَ ، أَخْلُقُ خَلْقًا لَا أَرْزُقُهُمْ ، أُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابِ النَّارِ . ¤ ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُلًّا نُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے باقی لوگوں کو چھوڑ کر ، اس ( شہر ) کے لیے دعا مانگی تھی ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور جو شخص کفر کرے گا “ ۔ اس کو بھی یہ چیز حاصل ہو گی میں ان لوگوں کو بھی اسی طرح رزق دوں گا جس طرح اہل ایمان کو رزق دوں گا اور میں ایسی مخلوق پیدا کروں گا جنہیں میں رزق نہیں دوں گا مگر یہ کہ تھوڑے عرصے تک انہیں نفع حاصل کرنے کا موقع دوں گا ، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف جانے پر مجبور کر دوں گا ، پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی : ” تمہارے پروردگار کی عطا سے ہم ان کی ( یعنی دنیا کے طلبگار افراد کی ) اور ان کی ( یعنی آخرت کے طلبگار افراد ) سب کی مدد کرتے ہیں ، اور تمہارے پروردگار کی عطا کے لئے کوئی بندش نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔