حدیث نمبر: 10837
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالُوا : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ ، لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ . قَالَ : " سَلُونِي عَمَّ شِئْتُمْ ، وَلَكِنِ اجْعَلُوا لِي ذِمَّةَ اللَّهِ ، وَمَا أَخَذَ يَعْقُوبُ عَلَى بَنِيهِ ، لَئِنْ أَنَا حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا فَعَرَفْتُمُوهُ لَتُبَايِعُنِّي " . قَالُوا : فَذَلِكَ لَكَ . ¤ قَالَ : أَرْبَعُ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهَا : أَخْبِرْنَا أَيَّ طَعَامٍ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ ؟ وَأَخْبَرْنَا كَيْفَ مَاءُ الرَّجُلِ مِنْ مَاءِ الْمَرْأَةِ ؟ وَكَيْفَ الْأُنْثَى مِنْهُ وَالذَّكَرُ ؟ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ هَذَا النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فِي النَّوْمِ ؟ وَمَنْ وَلِيُّهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ؟ . ¤ فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ عَهْدَ اللَّهِ : " لَئِنْ أَخْبَرْتُكُمْ لَتُتَابِعُنِّي " فَأَعْطَوْهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ ، قَالَ : " فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ مَرِضَ مَرَضًا [شَدِيدًا] فَطَالَ سَقَمُهُ ، فَنَذَرَ نَذْرًا لَئِنْ عَافَاهُ اللَّهُ مِنْ سَقَمِهِ لِيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ ، وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ ، وَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ ، وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا ؟ " فَقَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " . ¤ وَقَالَ : " أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ ، وَأَنَّ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ ، فَأَيُّهُمَا عَلَا كَانَ الْوَلَدُ وَالشَّبَهُ بِإِذْنِ اللَّهِ تَعَالَى ، إِنْ عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ كَانَ ذَكَرًا بِإِذْنِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَإِنْ عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ كَانَ أُنْثَى بِإِذْنِ اللَّهِ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " . ¤ قَالَ : " فَأُشْهِدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ هَذَا تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ؟ " قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ " . ¤ قَالُوا : أَنْتَ الْآنَ حَدَّثْتَنَا فَحَدِّثْنَا مَنْ وَلِيُّكَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، فَعِنْدَهَا نُجَامِعُكَ أَوْ نُفَارِقُكَ . قَالَ : " فَإِنَّ وَلِيِّيَ جِبْرِيلُ ، وَلَمْ يَبْعَثِ اللَّهُ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ وَلِيُّهُ " . قَالُوا : فَعِنْدَهَا نُفَارِقُكَ ، لَوْ كَانَ وَلِيُّكَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ سِوَاهُ لَاتَّبَعْنَاكَ وَصَدَّقْنَاكَ ، قَالَ : " فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُصَدِّقُوا ؟ " قَالُوا : هُوَ عَدُوُّنَا . ¤ فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ وَلَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفَاسِقُونَ أَوَكُلَّمَا عَاهَدُوا عَهْدًا نَبَذَهُ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ . فَعِنْدَ ذَلِكَ بَاؤُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن یہودیوں کے کچھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے ابوالقاسم ! آپ ہمیں کچھ چیزوں کے بارے میں بتائیے جن کے بارے میں ہم آپ سے سوال کریں گے ان چیزوں کے بارے میں صرف کسی نبی ہی کو علم ہو سکتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جس چیز کے بارے میں چاہو مجھ سے سوال کرو لیکن تم مجھے اللہ کے نام پر یہ عہد دو کہ جو عہد سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا اس کے نام پر یہ عہد دو کہ اگر میں نے تمہیں وہ چیزیں بتا دیں اور تم ان سے واقف ہوئے تو تم میری بیعت کر لو گے ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے ۔
انہوں نے کہا: چار چیزوں کے بارے میں ہم آپ سے دریافت کرنا چاہتے ہیں آپ ہمیں یہ بتائیں کہ وہ کون سا کھانا تھا ، جسے سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اپنی ذات پر حرام قرار دیا تھا اور یہ تورات کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ، اور آپ ہمیں یہ بتائیں کہ عورت کے نطفے کے مقابلے میں مرد کے نطفے کا کیا عالم ہوتا ہے ، اور اس نطفے میں سے مؤنث کیسی ہوتی ہے ، اور مذکر کیسے ہوتا ہے ، اور آپ ہمیں یہ بتائیے کہ نیند کی حالت میں اس امی نبی کا عالم کیا ہوتا ہے ، اور فرشتوں میں سے کون ان کا ساتھی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے اللہ کے نام پر عہد لیا کہ اگر میں نے تمہیں اس بارے میں بتا دیا تو تم میری بیعت کر لو گے ، تو جو آپ چاہتے تھے ان لوگوں نے وہ عہد و پیمان کر لیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اس ذات کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں جس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی تھی کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ اسرائیل شدید بیمار ہو گئے جب ان کی بیماری طویل ہو گئی تو انہوں نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بیماری سے عافیت نصیب کر دی تو وہ اپنے سب سے محبوب مشروب کو اپنے اوپر حرام قرار دیں گے اور اپنے سب سے محبوب کھانے کو اپنے اوپر حرام قرار دے دیں گے اور ان کے نزدیک سب سے محبوب کھانا اونٹ کا گوشت تھا اور سب سے محبوب مشروب اونٹ کا دودھ تھا ان لوگوں نے کہا: اللہ جانتا ہے جی ہاں ( ایسا ہی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ تو گواہ ہو جا !
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ مرد کا نطفہ گاڑھا ہوتا ہے ، اور عورت کا نطفہ زردی مائل پتلا ہوتا ہے ان دونوں میں جو غالب آ جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کے اذن کے تحت بچہ اس کے مطابق ہوتا ہے ، اور اسی حساب سے مشابہت رکھتا ہے اگر مرد کا نطفہ غالب آ جائے تو اللہ کے حکم کے تحت لڑکا ہوتا ہے ، اور اگر عورت کا نطفہ غالب آ جائے تو اللہ کے حکم کے تحت لڑکی ہوتی ہے لوگوں نے کہا: اللہ جانتا ہے ایسا ہی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ تو گواہ ہو جاؤ !
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اس ذات کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس نے تورات سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی تھی کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ امی نبی کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن ان کا دل نہیں سوتا ہے ان لوگوں نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ایسا ہی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ تو ان لوگوں کے بارے میں گواہ ہو جاؤ ! ان لوگوں نے کہا: ابھی آپ نے ہمیں یہ بات بتا دی ہے اب آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ فرشتوں میں سے کون آپ کا ساتھی ہے ؟ اس جواب کو دیکھ کر پھر ہم یا تو آپ کے ساتھ مل جائیں گے یا آپ سے الگ ہو جائیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرا ساتھی جبرائیل علیہ السلام ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا ہے جبرائیل علیہ السلام ہی اس کا ساتھی ہوتا ہے ، تو ان لوگوں نے کہا: پھر ہم آپ سے الگ ہو جائیں گے کیونکہ اگر ان کے علاوہ فرشتوں میں سے کوئی اور آپ کا ساتھی ہوتا تو ہم نے آپ کی پیروی کر دینی تھی اور آپ کی تصدیق کر لینی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کو تصدیق کرنے میں کیا چیز رکاوٹ بن رہی ہے ؟
انہوں نے کہا: وہ ہمارا دشمن ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” جو شخص جبرائیل کا دشمن ہو تو ، جبرائیل اس ( قرآن ) کو لے کر تمہارے دل پر اللہ کے حکم کے تحت نازل ہوا اور ( یہ قرآن ) اس چیز کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے آ چکی ہے ، اور یہ ( قرآن ) مومنین کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کا اس کے فرشتوں کا اس کے رسولوں کا جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو ، تو بے شک اللہ تعالیٰ کافروں کا دشمن ہے ہم نے تمہاری طرف واضح آیات نازل کی ہیں ، اور اس کا انکار صرف فاسق لوگ کریں گے کیا ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے جب بھی کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک گروہ نے اسے ایک طرف کر دیا بلکہ ان میں سے زیادہ تر لوگ ایمان نہیں رکھتے ہیں ، اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے رسول آیا جو اس چیز کی تصدیق کرنے والا ہو جو ان کے پاس تھی ، تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی ان میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا یوں جیسے وہ علم ہی نہیں رکھتے ہیں “ ۔
( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اس وقت وہ لوگ غضب کے ہمراہ مزید غضب لے کر واپس چلے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10837
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13012)»