کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: شراب کی حرمت نازل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1905
1905 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ: الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْعَسَلِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ وَثَلاَثٌ، وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُفَارِقْنَا حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا عَهْدًا: الْجَدُّ وَالْكَلاَلَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہا جب شراب کی حرمت کا حکم ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی۔ انگور سے، کھجور سے، گیہوں سے، جو اور شہد سے اور ’’خمر‘‘ (شراب) وہ ہے جو عقل کو مخمور کر دے اور تین مسائل ایسے ہیں کہ میری تمنا تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا ہونے سے پہلے ہمیں ان کا حکم بتا جاتے، دادا کا مسئلہ، کلالہ کا مسئلہ اور سود کے چند مسائل۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التفسير / حدیث: 1905
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 74 كتاب الأشربة: 5 باب ما جاء في أن الخمر ما خامر العقل من الشراب»