کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: سورہ براء ۃ، سورہ انفال اور سورہ حشر کے بیان میں
حدیث نمبر: 1904
1904 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ سَعِيدٍ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ، سُورَةُ التَّوْبَةِ قَالَ: التَّوْبَةُ هِيَ الْفَاضِحَةُ مَا زَالَتْ تَنْزِلُ (وَمِنْهُمْ، وَمِنْهُمْ) ، حَتَّى ظَنُّوا أَنَّها لَمْ تُبْقِ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلاَّ ذُكِرَ فِيهَا قَالَ: قُلْتُ: سُورَةُ الأَنْفَالِ قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَدْر قَالَ: قُلْتُ، سُورَةُ الْحَشْرِ قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ’’سورۃ التوبہ‘‘ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا یہ سورۂ توبہ کی ہے یا فضیحت کرنے والی ہے، اس سورت میں برابر یہی اترتا رہا بعضے لوگ ایسے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں یہاں تک کہ لوگوں کو گمان ہوا یہ سورت کسی کا ذکر باقی نہیں چھوڑے گی بلکہ سب کے بھید کھول دے گی۔ حضرت سعید نے بیان کیا کہ میں نے سورۃ الانفال کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ یہ جنگ بدر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ بیان کیا کہ میں نے سورۃ الحشر کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ قبیلہ بنو نضیر کے یہود کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التفسير / حدیث: 1904
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 59 سورة الحشر: 1 باب حدثنا محمد بن عبد الرحيم»