کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: قرآن حکیم کی چند آیتوں کی تفسیر
حدیث نمبر: 1893
1893 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ: ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا، وَقُولُوا حِطَّةٌ، فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ، وَقَالُوا: حَبَّةٌ فِي شَعْرَةٍ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بنی اسرائیل کو حکم ہوا تھا کہ بیت المقدس میں سجدہ و رکوع کرتے ہوئے داخل ہوں اور یہ کہتے ہوئے کہ یا اللہ! ہم کو بخش دے۔ لیکن انہوں نے اس کو الٹا کیا اور اپنے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور یہ کہتے ہوئے ’’حبۃ فی شعرہ‘‘ (یعنی بالیوں میں دانے خوب ہوں) داخل ہوئے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التفسير / حدیث: 1893
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 28 باب حدثني إسحق بن نصر»
حدیث نمبر: 1894
1894 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضي الله عنه، أَنَّ اللهَ تَعَالَى تَابَعَ عَلَى رَسُولِهِ، قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تَوَفَّاهُ أَكْثَرَ مَا كَانَ الْوَحْيُ ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدُ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پے در پے وحی اتارتا رہا اور آپ کی وفات کے قریبی زمانہ میں تو بہت وحی اتری، پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التفسير / حدیث: 1894
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 1 باب كيف نزول الوحي»
حدیث نمبر: 1895
1895 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْيَهُودِ قَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا، لَوْ عَلَيْنَا، مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ، لاَتَّخَذْنَا ذلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا قَالَ: أَيُّ آيَةٍ قَالَ (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا) قَالَ عُمَرُ: قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ، يَوْمَ جُمُعَةٍ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ایک دفعہ ایک یہودی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے امیر المومنین! آپ کی کتاب (قرآن) میں ایک آیت ہے جسے آپ پڑھتے ہیں۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس (کے نزول کے) دن کو یوم عید بنا لیتے۔ آپ نے پوچھا وہ کونسی آیت ہے؟ اس نے جواب دیا (سورۂ مائدہ کی یہ آیت کہ) ’’آج میں نے تمھارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمھارے لیے دین اسلام پسند کیا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو (خوب) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے۔
وضاحت:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ جمعہ اور عرفہ کا دن ہمارے ہاں عید ہی مانا جاتا ہے۔ اس لیے ہم بھی اس مبارک دن میں اس آیت کے نزول پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التفسير / حدیث: 1895
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 33 باب زيادة الإيمان ونقصانه»
حدیث نمبر: 1896
1896 صحيح حديث عَائِشَةَ، عَنْ عُرْوَةَ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّه سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى (وَإِنْ خِفْتُمْ) إِلَى (وَرُبَاعَ) فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا، تُشَارِكهُ فِي مَالِهِ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ، وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّقَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ هذِهِ الآيَةِ فَأَنْزَلَ اللهُ (وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ) إِلَى قَوْلِهِ (وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ) وَالَّذِي ذَكَرَ اللهُ أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ، الآيَةُ الأُولَى الَّتِي قَالَ فِيهَا (وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا في الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ) قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقَوْلُ اللهِ فِي الآيَةِ الأُخْرَى (وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ) يَعْنِي هِيَ رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ لِيَتِيمَتِهِ الَّتِي تكُونُ فِي حَجْرِهِ، حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ، إِلاَّ بِالْقِسْطِ، مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ’’اگر تم کو یتیموں میں انصاف نہ کرنے کا ڈر ہو تو جو عورتیں پسند آئیں دو دو تین تین چار چار نکاح میں لاؤ‘‘ (نساء: ۳) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میرے بھانجے یہ آیت اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی محافظ رشتہ دار جیسے چچیرا بھائی پھوپھی زاد یا ماموں زاد بھائی کی پرورش میں ہو اور ترکے کے مال میں اس کی ساجھی ہو اور وہ اس کی مالداری اور خوبصورتی پر فریفتہ ہو کر اس سے نکاح کر لینا چاہے، لیکن پورا مہر انصاف سے جتنا اس کو اور جگہ ملتا وہ نہ دے تو اسے اس سے منع کر دیا گیا کہ ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح کرے۔ البتہ اگر ان کے ساتھ ان کے ولی انصاف کر سکیں اور ان کی حسبِ حیثیت بہتر سے بہتر طرزِ عمل مہر کے بارے میں اختیار کریں تو اس صورت میں نکاح کرنے کی اجازت ہے اور ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ ان کے سوا جو بھی عورتیں انھیں پسند ہوں ان سے وہ نکاح کر سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ پھر لوگوں نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد (ایسی لڑکیوں سے نکاح کی اجازت کے بارے میں) مسئلہ پوچھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ’’تجھ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں، تو کہہ دے کہ خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے اور قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق تم نہیں دیتے اور انہیں نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو اور کمزور بچوں کے بارے میں اور اس بارے میں کہ یتیموں کی کار گذاری انصاف کے ساتھ کرو، تم جو نیک کام کرو بے شبہ اللہ اسے پوری طرح جاننے والا ہے۔ (نساء: ۱۲۷) یہ جو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر پڑھی جاتی ہیں‘‘ اس سے مراد پہلی آیت ہے یعنی اگر تم کو یتیموں میں انصاف نہ ہو سکنے کا ڈر ہو تو دوسری عورتیں جو بھلی لگیں ان سے نکاح کر لو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یہ جو اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا اور تم انہیں اپنے نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو، اس سے یہ غرض ہے کہ جو یتیم لڑکی تمھاری پرورش میں ہو اور مال اور جمال کم رکھتی ہو اس سے تو تم نفرت کرتے ہو اور اس لیے جس یتیم لڑکی کے مال اور جمال میں تم کو رغبت ہو اس سے بھی نکاح نہ کرو مگر اس صورت میں جب انصاف کے ساتھ ان کا پورا مہر دینا کرو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التفسير / حدیث: 1896
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 47 كتاب الشركة: 7 باب شركة اليتيم وأهل الميراث»
حدیث نمبر: 1897
1897 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: (وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ، وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ) أُنْزِلَتْ فِي وَالِي الْيَتِيمِ الَّذِي يُقِيمُ عَلَيْهِ، وَيُصْلِحُ فِي مَالِهِ، إِنْ كَانَ فَقِيرًا أَكَلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جو شخص مالدار ہو وہ (اپنی زیرِ پرورش یتیم کا مال ہضم کرنے سے) اپنے آپ کو بچائے اور جو فقیرہ ہو وہ نیک نیتی کے ساتھ اس میں سے کھا لے۔‘‘ یہ آیت یتیموں کے ان سر پرستوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جو ان کی اور ان کے مال کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتے ہوں کہ اگر وہ فقیر ہیں تو (اس خدمت کے عوض) نیک نیتی کے ساتھ اس میں سے کھا سکتے ہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التفسير / حدیث: 1897
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 95 باب من أجرى أمر الأنصار على ما يتعارفون بينهم»
حدیث نمبر: 1898
1898 صحيح حديث عَائِشَةَ (وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا) قَالَتْ: الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ الْمَرْأَةُ لَيْسَ بِمُسْتَكْثِرٍ مِنْهَا، يُرِيدُ أَنْ يُفَارِقَهَا فَتَقُولُ: أَجْعَلُكَ مِنْ شَأْنِي فِي حِلٍّ فَنَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ فِي ذَلِكَ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآن مجید کی ’’آیت اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے نفرت یا اس کے منہ پھیرنے کا خوف رکھتی ہو‘‘ کے بارے میں فرمایا کہ کسی شخص کی بیوی ہے، لیکن شوہر اس کے پاس زیادہ آتا جاتا نہیں، بلکہ اسے جدا کرنا چاہتا ہے اس پر اس کی بیوی کہتی ہے کہ میں اپنا حق تم سے معاف کرتی ہوں اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التفسير / حدیث: 1898
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 46 كتاب المظالم: 11 باب إذا حلله من ظلمه فلا رجوع منه»
حدیث نمبر: 1899
1899 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: آيَةٌ اخْتَلَفَ فِيهَا أَهْلُ الْكُوفَةِ فَرَحَلْتُ فِيهَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ: نَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ (وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ) هِيَ آخِرُ مَا نَزَلَ، وَمَا نَسَخَهَا شَيْءٌ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
حضرت سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ علماء کوفہ کا ایک آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا تھا۔ چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں اس کے لیے سفر کر کے گیا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت ’’اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کی سزا دوزخ ہے۔‘‘ (النساء:۳۹) نازل ہوئی اور اس باب کی یہ سب سے آخری آیت ہے، اسے کسی دوسری آیت نے منسوخ نہیں کیا ہے۔
وضاحت:
بلاوجہ کسی بھی انسان کا خون نا حق بہت بڑا گناہ ہے۔ قرآن مجید نے ایسے قاتلوں کو پوری نوع انسانی کا قاتل قرار دیا ہے۔ پھر اگر یہ خون ناحق کسی مومن و مسلمان کا ہے تو اس قاتل کو قرآن مجید نے ابدی دوزخی قرار دیا ہے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التفسير / حدیث: 1899
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 4 سورة النساء: 16 باب ومن يقتل مؤمنًا متعمدًا فجزاؤه جهنم»
حدیث نمبر: 1900
1900 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ابْنُ أَبْزَى: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى (وَمَنْ [ص:334] يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ) ، وَقَوْلِهِ (وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ) حَتَّى بَلَغَ (إِلاَّ مَنْ تَابَ) فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ قَالَ أَهْلُ مَكَّةَ: فَقَدْ عَدَلْنَا بِاللهِ وَقَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ، وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ فَأَنْزَلَ اللهُ (إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا) إلى قَوْلِهِ (غَفُورًا رَحِيمًا)
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت ’’اور جو کوئی کسی مومن کو جان کر قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے.‘‘(النساء:۹۳) اور سورۂ فرقان کی آیت ’’اور جس انسان کی جان مارنے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق کے ساتھ‘‘ الامن تاب و آمن تک، (میں نے اس آیت) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اہل مکہ نے کہا کہ پھر تو ہم نے اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہرایا ہے اور ناحق ایسے قتل بھی کیے ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا تھا اور ہم نے بدکاریوں کا بھی ارتکاب کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ’’مگر ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرتا رہے، اللہ بہت بخشنے والا بڑا ہی مہربان ہے۔ (الفرقان: ۷۰)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التفسير / حدیث: 1900
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 25 سورة الفرقان: 3 باب يضاعف له العذاب يوم القيامة»
حدیث نمبر: 1901
1901 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنه (وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا) قَالَ: كَانَ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ، فَلَحِقَهُ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غُنَيْمَتَهُ فَأَنْزَلَ اللهُ فِي ذَلِكَ، إِلَى قَوْلِهِ (عَرَضَ الْحَياةِ الدُّنْيَا) تِلْكَ الْغُنَيْمَةُ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت ’’اور جو تمہیں سلام کرتا ہو اسے یہ مت کہہ دیا کرو کہ تو تو مومن ہی نہیں ہے۔‘‘ کے بارے میں فرمایا کہ ایک صاحب (مرداس نامی) اپنی بکریاں چرا رہے تھے، ایک مہم پر جاتے ہوئے کچھ مسلمان انہیں ملے تو انہوں نے کہا ’’السلام علیکم‘‘ لیکن مسلمانوں نے بہانہ خور جان کر انہیں قتل کر دیا اور ان کی بکریوں پر قبضہ کر لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تھی آخر آیت ’’عرض الحیاۃ الدنیا‘‘ سے اشارہ انہی بکریوں کی طرف تھا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التفسير / حدیث: 1901
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 4 سورة النساء: 17 باب ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنًا»
حدیث نمبر: 1902
1902 صحيح حديث الْبَرَاءِ رضي الله عنه، قَالَ: نَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ فِينَا كَانَتِ الأَنْصَارُ، إِذَا حَجُّوا فَجَاءُوا، لَمْ يَدْخُلُوا مِنْ قِبَلِ أَبْوَابِ بُيُوتِهِمْ، وَلكِنْ مِنْ ظُهُورِهَا فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلَ مِنْ قِبَلِ بَابِهِ، فَكَأَنَّهُ عُيِّرَ بِذلِكَ، فَنَزَلَتْ (وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا)
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی انصار جب حج کے لیے آتے تو (احرام کے بعد) گھروں میں دروازوں سے نہیں جاتے تھے، بلکہ دیواروں سے کود کر (گھر کے اندر) داخل ہو ا کرتے تھے۔ پھر اسلام لانے کے بعد ایک انصاری شخص آیا اور دروازے سے گھر میں داخل ہو گیا، اس پر لوگوں نے لعنت ملامت کی تو یہ وحی نازل ہوئی کہ ’’یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ گھروں میں پیچھے سے (دیواروں پر چڑھ کر) آؤ، بلکہ نیک وہ شخص ہے جو تقویٰ اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو۔‘‘
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التفسير / حدیث: 1902
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 18 باب قول الله تعالى (وأتوا البيوت من أبوابها»