کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: دجال اور اس کے اوصاف اور جو کچھ اس کے ساتھ ہو گا
حدیث نمبر: 1854
1854 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، بَيْنَ ظَهْرَيِ النَّاسِ، الْمَسِيحَ الدَّجَالَ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلاَ إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ
مولانا داود راز
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ٗ لیکن دجال داہنی آنکھ سے کانا ہوگاٗ اس کی آنکھ اٹھے ہوئے انگور کی طرح ہوگی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 1854
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 48 باب واذكر في الكتاب مريم»
حدیث نمبر: 1855
1855 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بُعِثَ نَبِيٌّ إِلاَّ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الأَعْوَرَ الْكَذَّابَ أَلاَ إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَإِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ
مولانا داود راز
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نبی بھی مبعوث کیا گیا تو اس نے اپنی قوم کو کانے، جھوٹے سے ڈرایا۔ آگاہ رہو کہ وہ کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ’’کافر‘‘ لکھا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 1855
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 92 كتاب الفتن: 26 باب ذكر الدّجّال»
حدیث نمبر: 1856
1856 صحيح حديث حُذَيْفَةَ قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرِو لِحُذَيْفَةَ: أَلاَ تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ مَعَ الدَّجَالِ، إِذَا خَرَجَ، مَاءً وَنَارًا فَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهَا النَّارُ، فَمَاءٌ بَارِدٌ وَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ، فَنَارٌ تُحْرِقُ فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ، فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَى أَنَّها نَارٌ، فَإِنَّهُ عَذْبٌ بَارِدٌ
مولانا داود راز
حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا، کیا آپ وہ حدیث ہم سے نہیں بیان کریں گے جو آپ نے رسول اللہ سے سنی تھی؟ حضرت حذیفہنے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ آگ اور پانی دونوں ہوں گے۔ لیکن جو لوگوں کو آگ دکھائی دے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور جو لوگوں کو ٹھنڈا پانی دکھائی دے گا تو وہ جلانے والی آگ ہوگی۔ اس لئے تم میں سے جو کوئی اس کے زمانے میں تو اسے اس میں گرنا چاہئے جو آگ ہوگی کیونکہ وہی انتہائی شیریں اور ٹھنڈا پانی ہوگا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 1856
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 50 باب ما ذكر عن بني إسرائيل»
حدیث نمبر: 1857
1857 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا عَنِ الدَّجَّالِ، مَا حَدَّثَ بِهِ نَبِيٌّ قَوْمَهُ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّهُ يَجِيءُ مَعَهُ بِمِثَالِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الْجَنَّةُ، هِيَ النَّارُ وَإِنِّي أُنْذِرُكُمْ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ
مولانا داود راز
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیوں نہ میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات بتا دوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو اب تک نہیں بتائی۔ وہ کانا ہوگا اور جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔ پس جسے وہ جنت کہے گا در حقیقت وہی دوزخ ہوگی اور میں تمہیں اس کے فتنے سے اسی طرح ڈراتا ہوں ٗ جیسے نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔
وضاحت:
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل سنت اور تمام محدثین فقہاء وغیرہ کا مسلک ہے کہ یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ دجال کا وجود درست ہے وہ ایک معین شخص ہو گا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بندوں کی آزمائش فرمائے گا۔ اسے اپنی قدرت اور مشیت سے بہت سی چیزوں پر طاقت عطا فرمائے گا۔ وہ مردوں کو زندہ کر سکے گا، دنیا کو سر سبز کر دے گا، اس کے پاس جنت اور آگ ہو گی۔ زمین کی نہریں اور خزانے اس کے حکم کے تابع ہوں گے۔ لیکن پھر اللہ تعالیٰ اسے عاجز کر دے گا اور اس کا معاملہ باطل قرار پائے گا۔ (مرتب)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 1857
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 3 باب قول الله عز وجل (ولقد أرسلنا نوحا إلى قومه»