کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: جب دو مسلمان ایک دوسرے کے سامنے شمشیر بکف ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 1834
1834 صحيح حديث أَبِي بَكْرَةَ عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ لأَنْصُرَ هذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ قُلْتُ: أَنْصُرُ هذَا الرَّجُلَ قَالَ: ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ: إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ
مولانا داود راز
احنف بن قیس بیان کرتے ہیں کہ میں اس شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو چلا۔ راستے میں مجھ کو ابوبکرہ ملے۔ پوچھا کہاں جاتے ہو؟ میں نے کہا: اس شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو جاتا ہوں۔ ابو بکرہ نے کہا: اپنے گھر کو لوٹ جاؤ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں، تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! قاتل تو خیر (ضرور دوزخی ہونا چاہئے) مقتول کیوں؟ فرمایا: ’’وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کی حرص رکھتا تھا۔‘‘ (موقع پاتا تو وہ اسے ضرور قتل کر دیتا اس لیے دل کے پختہ ارادے پر وہ دوزخی ہوا)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 1834
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 22 باب المعاصي من أمر الجاهلية»
حدیث نمبر: 1835
1835 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَتِلَ فِئَتَانِ فَيَكُونَ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ، دَعْوَاهُمَا وَاحِدةٌ
مولانا داود راز
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دو جماعتیں آپس میں جنگ نہ کر لیں۔ دونوں میں بڑی بھاری جنگ ہوگی حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 1835
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»