کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: میت کو اس کا ٹھکانہ دکھائے جانے کا بیان اور عذاب قبر کا اثبات اور اس سے پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 1822
1822 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَحَدَكمْ، إِذَا مَاتَ، عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؛ فَيُقَالُ هذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
مولانا داود راز
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے اگر وہ جتنی ہے تو جنت والوں میں اور جو دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1822
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 90 باب الميت يعرض عليه مقعده بالغداة والعشي»
حدیث نمبر: 1823
1823 صحيح حديث أَبِي أَيُّوبَ رضي الله عنه قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ: يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا
مولانا داود راز
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تشریف لے گئے۔ سورج غروب ہو چکا تھا۔ اس وقت آپ کو ایک آواز سنائی دی۔ (یہودیوں پر عذاب قبر کی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی پر اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1823
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 88 باب التعوذ من عذاب القبر»
حدیث نمبر: 1824
1824 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ، فَيُقعِدَانِهِ فَيقُولاَنِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هذَا الرَّجُلِ (لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا
مولانا داود راز
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور جنازہ میں شریک ہونے والے لوگ اس سے رخصت ہوتے ہیں تو ابھی وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہوتا ہے کہ دو فرشتے (منکر نکیر) اس کے پاس آتے ہیں‘ وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ اس شخص، یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو کیا اعتقاد رکھتا تھا ؟ مومن تو یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس جواب پر اس سے کہا جائے گا کہ تو یہ دیکھ اپنا جہنم کا ٹھکانا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں تمھارے لیے جنت میں ٹھکانا دے دیا۔ اس وقت اسے جہنم اور جنت دونوں ٹھکانے دکھائے جائیں گے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1824
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 87 باب ما جاء في عذاب القبر»
حدیث نمبر: 1825
1825 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ أُتِيَ، ثُمَّ شَهِدَ أَنْ لاَ إِله إِلاَّ اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَذلِكَ قَوْلُهُ (يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بَالْقَوْلِ الثَّابِتِ)
مولانا داود راز
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن جب اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں۔ وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تویہ اللہ کے اس فرمان کی تعبیر ہے جو سورۂ ابراہیم میں ہے کہ اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں ٹھیک بات، یعنی توحید پر مضبوط رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1825
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 87 باب ما جاء في عذاب القبر»
حدیث نمبر: 1826
1826 صحيح حديث أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلاً مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ، فَقُذِفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ، خَبِيثٍ مُخْبِثٍ وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلاَثَ لَيَالٍ فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ، الْيَوْمَ الثَّالِثَ، أَمَرَ بَرَاحِلَتِهِ فَشُدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ وَقَالُوا مَا نُرَى يَنْطَلِقُ إِلاَّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ: يَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ وَيَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَن أَيَسُرُّكُمْ أنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لاَ أَرْوَاحَ لَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ
مولانا داود راز
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قریش کے چوبیس مقتول سردار بدر کے ایک بہت ہی اندھیرے اور گندے کنویں میں پھینک دئیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب دشمن پر غالب ہوتے تو میدان جنگ میں تین دن تک قیام فرماتے۔ جنگ بدر کے خاتمہ کے تیسرے دن آپ کے حکم سے آپ کی سواری پر کجاوہ باندھا گیا اور آپ روانہ ہوئے، آپﷺ کے اصحاب بھی آپ کے ساتھ تھے، صحابہ نے کہا، غالباً آپ کسی ضرورت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں۔ آخر آپ اس کنویں کے کنارے آکر کھڑے ہوگئے اور کفار قریش کے مقتولین سرداروں کے نام ان کے باپ کے نام کے ساتھ لے کر انہیں آواز دینے لگے کہ اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا آج تمہارے لیے یہ بات بہتر نہیں تھی کہ تم نے دنیا میںاللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی؟ بے شک ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا وہ ہمیں پوری طرح حاصل ہوگیا۔ تو کیا تمہارے رب کا تمہارے متعلق جووعدہ(عذاب کا) تھا وہ بھی تمہیں پوری طرح مل گیا؟ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بول پڑے یا رسول اللہ! آپ ان لاشوں سے کیوں خطاب فرما رہے ہیں؟ جن میں کوئی جان نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو کچھ میں کہہ رہا ہوں تم لوگ ان سے زیادہ اسے نہیں سن رہے ہو۔
وضاحت:
جو لوگ اس واقعہ سے سماع موتی ثابت کرتے ہیں وہ سراسر غلطی پر ہیں۔ کیونکہ یہ سنانا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا۔ قرآن حکیم میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ وما انت بسمع من فی القبور یعنی آپ قبر والوں کو سنانے سے قاصر ہیں۔ مرنے کے بعد جملہ دنیاوی تعلقات ٹوٹنے کے ساتھ دنیاوی زندگی کے لوازمات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ سننا بھی اسی میں شامل ہے۔ اگر مردے سنتے ہوں تو ان پر مردگی کا حکم لگانا ہی غلط ٹھہرتا ہے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1826
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 8 باب قتل أبي جهل»