کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: دنیا کے فنا ہونے کا بیان اور روز قیامت حشر کا بیان
حدیث نمبر: 1817
1817 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ، يَا رَسُولَ اللهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ: الأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَهِمَّهُمْ ذَاكِ
مولانا داود راز
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ننگے پاؤں، ننگے جسم، بلاختنہ کے اٹھائے جاؤ گے۔ ‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ اس پر میں نے پوچھا: یا رسول اللہ!تو کیا مرد عورتیں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہو گا۔ اس کا خیال بھی کوئی نہیں کر سکے گا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1817
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 45 باب كيف الحشر»
حدیث نمبر: 1818
1818 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً (كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ) الآيَةَ وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلاَئِقِ يُكْسى يَوْمَ الْقَيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مَنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي فَيَقُولُ: إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: (وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ) إِلَى قَوْلِهِ (الْحَكِيمُ) قَالَ: فَيُقَالُ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ
مولانا داود راز
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم لوگ قیامت کے دن اس حال میں جمع کئے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسم ہو گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’جس طرح ہم نے شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح لوٹا دیں گے‘‘ اور تمام مخلوقات میں سب سے پہلے جسے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور میری امت کے بہت سے لوگ لائے جائیں گے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ میں اس پر کہوں گا اے میرے رب!یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی نئی بدعات نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ ؑ) نے کہا کہ یا اللہ!میں جب تک ان میں موجود رہا اس وقت تک میں ان پر گواہ تھا۔ (المائدہ ۱۱۷۔۱۱۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ فرشتے (مجھ سے) کہیں گے کہ یہ لوگ ہمیشہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے ہی رہے۔ (مرتد ہوتے رہے)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1818
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 45 باب كيف الحشر»
حدیث نمبر: 1819
1819 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلاَثِ طَرَائِقَ: رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرِ، وَثَلاَثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِير، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَيَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ، تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيثُ بَاتُوا، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا، وَتُمْسى مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا
مولانا داود راز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہو گا(ایک فرقہ والے) لوگ رغبت کرنے، نیز ڈرنے والے ہوں گے (دوسرا فرقہ ایسے لوگوں کا ہو گا کہ) ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے کسی اونٹ پر تین ہوں گے، کسی اونٹ پر چار ہوں گے اور کسی پر دس ہوں گے اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی (اہل شرک کا یہ تیسرا فرقہ ہو گا) جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہری ہو گی جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ وہاں ٹھہری ہوگی جب وہ صبح کریں گے تو آگ بھی صبح کے وقت وہاں موجود ہوگی اور جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہوگی۔‘‘
وضاحت:
علمائے اسلام نے اس آگ سے مراد کئی ناری واقعات کو لیا ہے۔ باقی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے، سچ ہے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1819
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 45 باب كيف الحشر»