کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: ظالم اور جابر لوگ آگ میں جائیں گے اور کمزور لوگ جنت میں جائیں گے
حدیث نمبر: 1809
1809 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ: أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: مَا لِي لاَ يَدْخُلُنِي إِلاَّ ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ قَالَ اللهُ، تَبَارَكَ وَتَعَالَى، لِلْجنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَقَالَ لِلنَّارِ: إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابٌ أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مِلْؤُهَا فَأَمَّا النَّارُ فَلاَ تَمْتَلِىءُ حَتَّى يَضَعَ رِجْلَهُ فَتَقُولُ قَطٍ قَطٍ قَطٍ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِىءُ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَلاَ يَظْلِمُ اللهُ، عَزَّ وَجَلَّ، مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا وَأَمَّا الْجَنَّةُ، فَإِنَّ اللهَ، عَزَّ وَجَلَّ، يُنْشِىءُ لَهَا خَلْقًا
مولانا داود راز
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت اور دوزخ نے بحث کی ٗ دوزخ نے کہا میں متکبروں اور ظالموں کے لیے خاص کی گئی ہوں۔ جنت نے کہا مجھے کیا ہوا کہ میرے اندر صرف کمزور اور کم رتبہ والے لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت سے کہا کہ تو میری رحمت ہے ٗ تیرے ذریعہ میں اپنے بندوں میں جس پر چاہوں رحم کروں اور دوزخ سے کہا کہ تو عذاب ہے تیرے ذریعہ میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں عذاب دوں۔ جنت اور دوزخ دونوں بھریں گی۔ دوزخ تو اس وقت تک نہیں بھرے گی۔ جب تک اللہ رب العزت اپنا قدم اس پر نہیں رکھ دے گا۔ اس وقت وہ بولے گی کہ بس بس! اور اس وقت بھر جائے گی اور اس کا بعض حصہ بعض دوسرے حصے پر چڑھ جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں کسی پر بھی ظلم نہیں کرے گا اور جنت کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مخلوق پیدا کرے گا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1809
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 50 سورة ق: 1 باب قوله وتقول هل من مزيد»
حدیث نمبر: 1810
1810 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ، حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ فَتَقُولُ قطِ قَطِ وَعِزَّتِكَ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْض
مولانا داود راز
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ آخر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم!اور اس کا بعض حصہ بعض کو کھانے لگے گا۔
وضاحت:
روایت میں ’’قدم‘‘ کا لفظ آیا ہے جس پر ایمان لانا فرض ہے اور اس کی حقیقت کے اندر بحث کرنا بدعت ہے۔ اور حقیقت کو علم الٰہی کے حوالے کر دینا کافی ہے۔ سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر تشبیہ سے منزہ ہے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1810
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 83 كتاب الأيمان والنذور: 12 باب الحلف بعزة الله وصفاته وكلماته»
حدیث نمبر: 1811
1811 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُؤْتَى بِالْمَوْتِ كَهَيْئَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ، فَيُنَادِي مُنَادٍ، يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرونَ فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هذَا فَيَقُولُونَ: نَعَمْ هذَا الْمَوْتُ وَكلُّهُمْ قَدْ رَأَوْهُ ثُمَّ يُنَادِي: يَا أَهْلَ النَّارِ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هذَا فَيَقُولُونَ: نَعَمْ هذَا الْمَوْتُ وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآه فَيُذْبَحُ ثُمَّ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ، فَلاَ مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّار خُلُودٌ، فَلاَ مَوْتَ ثُمَّ قَرَأَ (وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ، وَهؤُلاَءِ فِي غَفْلَةٍ، أَهْل الدُّنْيَا، وَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ)
مولانا داود راز
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قیامت کے دن موت ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا کہ اے جنت والوں! تمام جنتی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے، آواز دینے والا فرشتہ پوچھے گا۔ تم اس مینڈھے کو بھی پہچانتے ہو؟ وہ بولیں گے کہ ہاں یہ موت ہے اور ان میں سے ہر شخص اس کا ذائقہ چکھ چکا ہو گا۔ پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا اور آواز دینے والا جنتیوں سے کہے گا کہ اب تمہارے لیے ہمیشگی ہے، موت تم پر کبھی نہ آئے گی اور اسے جہنم والو! تمہیں بھی ہمیشہ اسی طرح رہنا ہے، تم پر بھی موت کبھی نہیں آئے گی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔ ’’وانذرھم یوم الحسرۃ‘‘ الخ (اور انہیں حسرت کے دن سے ڈرا دو۔ جبکہ اخیر فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ لوگ غفلت میں پڑے ہوئے (یعنی دنیا دار لوگ) اور ایمان نہیں لاتے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1811
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 19 سورة مريم: 1 باب قوله وأنذرهم يوم الحسرة»
حدیث نمبر: 1812
1812 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ؛ جِيءَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ثُمَّ يُذْبَحُ ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجنَّةِ لاَ مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ لاَ مَوْتَ فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ
مولانا داود راز
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اہل جنت جنت میں چلے جائیں گے اور اہل دوزخ دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا اور اسے جنت اور دوزخ کے درمیان رکھ کر ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ اے جنت والو!تمہیں اب موت نہیں آئے گی اور اے دوزخ والو!تمہیں بھی اب موت نہیں آئے گی۔ اس بات سے جنتی اور زیادہ خوش ہو جائیں گے اور جہنمی اور زیادہ غمگین ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1812
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 51 باب صفة الجنة والنار»
حدیث نمبر: 1813
1813 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا بَيْنَ مَنْكِبَيِ الْكَافِرِ مَسِيرَةُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ
مولانا داود راز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ’’کافر کے دونوں شانوں کے درمیان تیز چلنے والے کے لئے تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہوگا۔‘‘
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1813
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 51 باب صفة الجنة والنار»
حدیث نمبر: 1814
1814 صحيح حديث حارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ كُلُّ ضَعِيفٍ مَتَضَعِّفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لأَبَرَّهُ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ
مولانا داود راز
حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ٗ آپ فرما رہے تھے کہ میں تمہیں بہشتی آدمی کے متعلق نہ بتا دوں۔ وہ دیکھنے میں کمزور ناتواں ہوتا ہے (لیکن اللہ کے یہاں اس کا مرتبہ یہ ہے کہ) اگر کسی بات پر اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ اسے ضرور پوری کر دیتا ہے اور کیا میں تمہیں دوزخ والوں کے متعلق نہ بتا دوں ہر بد خو، بھاری جسم والا اور تکبر کرنے والا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1814
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 68 سورة ن والقلم: 1 باب عتُل بعد ذلك زنيم»
حدیث نمبر: 1815
1815 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَذَكَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا) انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ، مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ وَذَكَرَ النِّسَاءَ فَقَالَ: يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ، يَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، فَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، وَقَالَ لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ
مولانا داود راز
حضرت عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ٗ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس شخص کا بھی ذکر فرمایا جس نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا اذ انبعث اشقھا یعنی اس اونٹنی کو مار ڈالنے کے لیے ایک مفسد بدبخت (قدار نامی) جو اپنی قوم میں ابو زمعہ کی طرح غالب اور طاقتور تھا، اٹھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے حقوق کا بھی ذکر فرمایا کہ تم میں بعض اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے مارتے ہیں حالانکہ اسی دن کے ختم ہونے پر وہ اس سے ہم بستری بھی کرتے ہیں۔ پھر آپ نے انہیں ہوا خارج ہونے پر ہنسنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ ایک کام جو تم میں ہر شخص کرتا ہے اسی پر تم دوسروں پر کس طرح ہنستے ہو۔
وضاحت:
راوي حدیث:… حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ م المومنین حضرت سودہ کے بھائی تھے۔ ان کا شمار اہل مدینہ میںہوتا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن وفات پائی۔ ان سے عروۃ بن زبیر روایت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1815
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 91 سورة والشمس: 1 باب حدثنا موسى بن إسماعيل»
حدیث نمبر: 1816
1816 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرِ بْنِ لُحَيٍّ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ
مولانا داود راز
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے عمرو بن عامر بن لحی خزاعی کو دیکھا کہ جہنم میں وہ اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا اور یہی عمرو وہ پہلا شخص ہے جس نے سائبہ کی رسم نکالی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1816
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 9 باب قصة خزاعة»