کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: بہترین یا اچھے لوگوں کا بیان
حدیث نمبر: 1642
1642 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإسْلاَمِ، إِذَا فَقِهُوا وَتَجِدونَ خَيْرَ النَّاسِ فِي هذَا الشَّأْنِ أَشَدَّهُمْ لَهُ كَرَاهِيَةً وَتَجِدُونَ شَرَّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأتِي هؤُلاَءِ بَوَجْهٍ وَهؤُلاَءِ بِوَجْهٍ
مولانا داود راز
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم انسانوں کو کان کی طرح پاؤ گے (بھلائی اور برائی میں) جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں اور حکومت اور سرداری کے لائق اس کو پاؤ گے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو۔ اور آدمیوں میں سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دورخہ (دوغلا) ہو۔ ان لوگوں میں ایک منہ لے کر آئے ٗ دوسروں میں دوسرا منہ۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1642
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 1 باب قول الله تعالى (يأيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى»