کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: غفار اور اسلم قبیلہ کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا ذکر
حدیث نمبر: 1635
1635 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَسْلَمُ، سَالَمَهَا اللهُ وَغِفَارُ، غَفَرَ اللهُ لَهَا
مولانا داود راز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1635
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 6 باب ذكر أسلم وغفار ومزينة وجُهَيْنَةَ وأشجع»
حدیث نمبر: 1636
1636 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ: غِفَارُ، غَفَرَ اللهُ لَهَا وَأَسْلَمُ، سَالَمَهَا اللهُ وَعُصَيَّةُ، عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ
مولانا داود راز
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا : قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی اور قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ عصیہ نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
وضاحت:
قبیلہ غفار والے عہد جاہلیت میں حاجیوں کا مال چراتے، چوری کرتے۔ اسلام لانے کے بعد اللہ نے ان کے گناہوں کو معاف کر دیا اور قبیلہ عصیہ والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کر کے غداری کی اور بیئر معونہ والوں کو شہید کر دیا۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1636
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 6 باب ذكر أسلم وغفار ومزينة وجهينة وأشجع»