حدیث نمبر: 1625
1625 صحيح حديث أَبِي مُوسى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ، وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ، إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ (أَوْ قَالَ) الْعَدُوَّ، قَالَ لَهُمْ إِنَّ أَصْحَابِي يَأمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ
مولانا داود راز
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میرے اشعری احباب رات میں آتے ہیں تو میں ان کی قرآن کی تلاوت کی آواز پہچان جاتا ہوں اگرچہ دن میں‘ میں نے ان کی اقامت گاہوں کو نہ دیکھا ہو لیکن جب رات میں وہ قرآن پڑھتے ہیں تو ان کی آواز سے میں ان کی اقامت گاہوں کو پہچان لیتا ہوں میرے ان ہی اشعری احباب میں ایک مرد دانا بھی ہے کہ جب کہیں اس کی سواروں سے مڈ بھیڑ ہو جاتی ہے یا آپ نے فرمایا کہ دشمن سے‘ تو ان سے کہتا ہے کہ میرے دوستوں نے کہا ہے کہ تم تھوڑی دیر کے لئے ان کا انتظارکر لو۔
حدیث نمبر: 1626
1626 صحيح حديث أَبِي مُوسى، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ، جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ، فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ
مولانا داود راز
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ اشعر کے لوگوں کا جب جہاد کے موقعے پر توشہ کم ہو جاتاہے، یامدینے کے قیام میں ان کے بال بچوں کے لیے کھانے کی کمی ہو جاتی تو جو کچھ بھی ان کے پاس توشہ ہوتا ہے وہ ایک کپڑے میں جمع کرلیتے ہیں، پھر آپس میں ایک برتن کے برابر تقسیم کر لیتے ہیں، پس وہ میرے اور میں ان کا ہوں۔