کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: حضرت یوسفؑ کے فضائل
حدیث نمبر: 1538
1538 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ قَالَ: أَتْقَاهُمْ فَقَالُوا: لَيْسَ عَنْ هذَا نَسْأَلُكَ قَالَ: فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللهِ ابْنُ نَبِيِّ اللهِ ابْنِ نَبِيِّ اللهِ ابْنِ خَلِيلِ اللهِ قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هذَا نَسْأَلُكَ قَالَ: فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونَ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقُهُوا
مولانا داود راز
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق نہیں پوچھتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کے نبی یوسف بن نبی اللہ بن نبی اللہ بن خلیل اللہ (سب سے زیادہ شریف ہیں) صحابہ نے کہا کہ ہم اس کے متعلق بھی نہیں پوچھتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا عرب کے خاندانوں کے متعلق تم پوچھنا چاہتے ہو۔ سنو جو جاہلیت میں شریف تھے اسلام میں بھی وہ شریف ہیں جب کہ دین کی سمجھ انہیں آ جائے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفضائل / حدیث: 1538
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 8 باب قول الله تعالى (واتخذ الله إبراهيم خليلاً»