حدیث نمبر: 1532
1532 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ وَكَانَ مُوسى يَغْتَسِلُ وَحْدَه فَقَالُوا: وَاللهِ مَا يَمْنَعُ مُوسى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلاَّ أَنَّهُ آدَرُ فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَخَرَجَ مُوسى فِي إِثْرِهِ يَقُولُ: ثَوْبِي يَا حَجَرُ حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى مُوسى، فَقَالُوا: وَاللهِ مَا بِمُوسى مِنْ بأسٍ وَأَخَذَ ثَوْبَهُ، فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللهِ إِنَّهُ لَنَدَبٌ بِالْحَجَرِ، سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ، ضَرْبًا بِالحَجَرِ
مولانا داود راز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا، لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا پردے سے غسل فرماتے۔ اس پر انھوں نے کہا: بخدا! موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف یہ چیز مانع ہے کہ آپ کے خصیے بڑھے ہوئے ہیں۔ ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور آپ نے کپڑوں کو ایک پتھر پر رکھ دیا۔ اتنے میں پتھر کپڑوں کو لے بھاگا اور موسیٰ علیہ السلام بھی اس کے پیچھے بڑی تیزی سے دوڑے۔ آپ کہتے جاتے تھے۔ اے پتھر! میرا کپڑا دے، اے پتھر! میرا کپڑا دے۔ اس عرصہ میں بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو ننگا دیکھ لیا اور کہنے لگے: بخدا! موسیٰ علیہ السلام کو کوئی بیماری نہیں اور موسیٰ علیہ السلام نے کپڑا لیا اور پتھر کو مارنے لگے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بخدا! اس پتھر پر چھے یا سات مار کے نشان باقی ہیں۔
حدیث نمبر: 1533
1533 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسى عَلَيهِ السَّلاَمُ فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لا يُرِيدُ الْمَوْتَ فَرَدَّ اللهُ عَلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ: ارْجِعْ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ بِهِ يَدُهُ، بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ قَالَ: أَيْ رَبِّ ثُمَّ مَاذَا قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ قَالَ: فَالآنَ فَسَأَلَ اللهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ، عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ
مولانا داود راز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ملک الموت (آدمی کی شکل میں) موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجے گئے وہ جب آئے تو موسیٰ علیہ السلام نے (نہ پہچان کر) انھیں ایک زور کا طمانچہ مارا اور ان کی آنکھ پھوڑ ڈالی۔ وہ واپس اپنے رب کے حضور میں پہنچے اور عرض کی کہ یا اللہ! تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھ پہلے کی طرح کردی اور فرمایا: دوبارہ جا اور ان سے کہہ کہ آپ اپنا ہاتھ ایک بیل کی پیٹھ پر رکھیے اور پیٹھ کے جتنے بال آپ کے ہاتھ تلے آجائیں ان کے ہربال کے بدلے ایک سال کی زندگی دی جاتی ہے۔(موسیٰ علیہ السلام تک جب اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچا تو) آپ نے کہا کہ اے اللہ ! پھر کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر بھی موت آنی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام بولے: تو ابھی کیوں نہ آجائے، پھر انھوں نے اللہ سے دعا کی کہ انھیں ایک پتھر کی مار پر ارضِ مقدس سے قریب کر دیا جائے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں وہاں ہوتا تو تمھیں ان کی قبر دکھاتا کہ لال ٹیلے کے پاس راستے کے قریب ہے۔
حدیث نمبر: 1534
1534 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلاَنِ، رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ قَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطفَى مُوسى عَلَى الْعَالَمِينَ فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ، عِنْدَ ذلِكَ، فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيّ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَه بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذلِكَ، فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَصْعَقُ مَعَهُمْ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسى بَاطِشٌ جَانِبَ الْعَرْشِ، فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللهُ
مولانا داود راز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دوشخصوں نے جن میں ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی، ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔ مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دنیا والوں پر بزرگی دی اور یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے موسیٰ (p) کو تمام دنیا والوں پربزرگی دی۔ اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر یہودی کے طمانچہ مارا۔ وہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورمسلمان کے ساتھ اپنے واقعے کو بیان کیا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو بلایا اور ان سے واقعے کے متعلق پوچھا۔ انھوں نے آپ کو اس کی تفصیل بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا: مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دو۔ لوگ قیامت کے دن بے ہوش کر دیے جائیں گے۔ میں بھی بے ہوش ہو جاؤںگا۔ بے ہوشی سے ہوش میں آنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوںگا، لیکن موسیٰ علیہ السلام کو عرش الٰہی کا کنارہ پکڑے ہوئے پاؤں گا۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بے ہوش ہونے والوں میں ہونے کے باوجود اور مجھ سے پہلے انھیں ہوش آجائے گا، یااللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں میں رکھا ہے جو بے ہوشی سے مستثنیٰ ہیں۔
حدیث نمبر: 1535
1535 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، جَاءَ يَهُودِيٌّ فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ ضَرَبَ وَجْهِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِكَ فَقَالَ: مَنْ قَالَ: رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ: ادْعُوهُ فَقَالَ: أَضَرَبْتَهُ قَالَ: سَمِعْتُهُ بِالسُّوقِ يَحْلِفُ، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسى عَلَى الْبَشَرِ قلْتُ: أَيْ خَبِيثُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ ضَرَبْتُ وَجْهَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تُخَيِّرُوا بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُون أَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ أَمْ حُوسِبَ بِصَعْقَةِ الاولَى
مولانا داود راز
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی آیا اور کہا اے ابوالقاسم! آپ کے اصحاب میں سے ایک نے مجھے طمانچہ مارا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کس نے؟ اس نے کہا کہ ایک انصاری نے۔ آپ نے فرمایا کہ انھیں بلاؤ۔ وہ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے مارا ہے؟ انھوں نے کہا کہ میں نے اسے بازار میں یہ قسم کھاتے سنا۔ اس ذات کی قسم! جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر بزرگی دی۔ میں نے کہا: او خبیث! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی! مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو انبیا میں باہم ایک دوسرے پر اس طرح بزرگی نہ دیا کرو۔ لوگ قیامت میں بے ہوش ہو جائیںگے۔ اپنی قبر سے سب سے پہلے نکلنے والا میں ہی ہوں گا، لیکن میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرشِ الٰہی کا پایہ پکڑے ہوئے ہیں۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بے ہوش ہوں گے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آجائیں گے یا انھیں پہلی بے ہوشی جو طور پر ہو چکی ہے وہی کافی ہو گی۔