کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اور آپ اللہ سے بہت ڈرتے تھے
حدیث نمبر: 1518
1518 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَرَخَّصَ فِيهِ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ قَوْمٌ، فَبَلَغَ ذلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَ، فَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَزَّهُونَ عَنِ الشَّيْءِ أَصْنَعُهُ فَوَاللهِ إِنِّي لأَعْلَمُهُمْ بِاللهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
مولانا داود راز
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور لوگوں کو بھی اس کی اجازت دے دی لیکن کچھ لوگوں نے اس کا نہ کرنا اچھا جانا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے خطبہ دیا اور اللہ کی حمد کے بعد فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو اس کام سے پرہیز کرتے ہیں جو میں کرتا ہوں، اللہ کی قسم! میں اللہ کو ان سب سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفضائل / حدیث: 1518
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 72 باب من لم يواجه الناس بالعتاب»