کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاء اور شرم کا بیان
حدیث نمبر: 1499
1499 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا
مولانا داود راز
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفضائل / حدیث: 1499
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 23 باب صفة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
حدیث نمبر: 1500
1500 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنٍ عَمْرِو، قَالَ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا [ص:104] وَلاَ مُتَفَحِّشًا وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلاَقًا
مولانا داود راز
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بد زبان اور لڑنے جھگڑنے والے نہیں تھے ٗ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
وضاحت:
امام نووی رحمہ اللہ شرح مسلم میں فرماتے ہیں اس حدیث میں حسن خلق پر رغبت دلائی گئی ہے اور اچھے اخلاق والوں کی فضیلت کا بیان ہے کہ حسن خلق انبیاء اور اولیاء کی صفت ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اچھے اخلاق کی حقیقت یہ ہے کہ نیکی کو عام کرنا، تکلیف دینے سے اجتناب کرنا، کشادہ پیشانی سے پیش آنا۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں اچھا اخلاق لوگوں سے خوبصورتی اور خوشی سے تعلقات رکھنا ان سے محبت کرنا، ان پر شفقت کرنا، ان کو برداشت کرنا، ان سے بردباری سے پیش آنا، ان کی مکروہ باتوں پر صبر کرنا، تکبر اور عیب کو چھوڑ دینا، سنگ دلی، غیض و غضب اور انتقام لینے سے پہلو تہی کرنا ہے۔ (مرتب)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفضائل / حدیث: 1500
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 23 باب صفة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»