کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوش اخلاقی میں سب سے بڑھ کر تھے
حدیث نمبر: 1491
1491 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي: أُفٍّ وَلاَ: لِمَ صَنَعْتَ وَلاَ: أَلاّ صَنَعْتَ
مولانا داود راز
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفضائل / حدیث: 1491
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 39 باب حسن الخلق والسخاء وما يكره من البخل»
حدیث نمبر: 1492
1492 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَنَسًا غُلاَمٌ كَيِّسٌ، فَلْيَخْدُمْكَ قَالَ: فَخَدَمْتُهُ فِي الْحَضَرِ وَالسّفَرِ فَوَاللهِ مَا قَالَ لِي، لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ: لِمَ صَنَعْتَ هذَا هكَذَا وَلاَ لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ: لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هذَا هكَذَا
مولانا داود راز
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ یرا ہاتھ پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا یا رسول اللہ!انس سمجھدار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی۔ واللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا: یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفضائل / حدیث: 1492
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 87 كتاب الديات: 27 باب من استعان عبدًا أو صبيًا»