کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر شفقت اور امت کو ضرر رساں چیزوں سے ڈرانے کا بیان
حدیث نمبر: 1472
1472 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ، جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، فَجَعَلَ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبُنَهُ، فَيَقْتَحِمنَ فِيهَا فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَهُمْ يَقْتَحِمُونَ فِيهَا
مولانا داود راز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میری اور لوگوں کی مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے چاروں طرف روشنی ہو گئی تو پروانے اور یہ کیڑے مکوڑے جو آگ پر گرتے ہیں اس میں گرنے لگے اور آگ جلانے والا انہیں اس میں سے نکالنے لگا لیکن وہ اس کے قابو میں نہیں آئے اور آگ میں گرتے ہی رہے۔ اسی طرح میں تمہاری کمر کو پکڑ پکڑ کر تمہیں آگ سے نکالتا ہوں اور تم ہو کہ اسی میں گرتے جاتے ہو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفضائل / حدیث: 1472
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 26 باب الانتهاء عن المعاصي»