کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: گوہ کا گوشت حلال ہے
حدیث نمبر: 1271
1271 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الضَّبُّ، لَسْتُ آكُلُهُ، وَلاَ أُحَرِّمُهُ
مولانا داود راز
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں خود گوہ نہیں کھاتا لیکن اسے حرام بھی نہیں قرار دیتا۔‘‘
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان / حدیث: 1271
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 33 باب الضب»
حدیث نمبر: 1272
1272 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيهمْ سَعْدٌ، فَذَهَبُوا يَأْكُلُونَ مِنْ لَحْمٍ، فَنَادَتْهُمُ امْرَأَةٌ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَأَمْسَكُوا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُوا أَوِ اطْعَمُوا، فَإِنَّهُ حَلاَلٌ أَوْ قَالَ: لاَ بَأْسَ بِهِ وَلكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي
مولانا داود راز
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی اصحاب جن میں سعد رضی اللہ عنہ بھی (دستر خوان پر بیٹھے ہوئے) تھے لوگوں نے گوشت کھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ مطہرہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہ نے آگاہ کیا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے۔ سب لوگ کھانے سے رک گئے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھاؤ (آپ نے کلوا فرمایا یا اطعموا) اس لئے کہ حلال ہے یا فرمایا کہ اس کھانے میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ جانور میری خوراک نہیں ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان / حدیث: 1272
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 95 كتاب أخبار الآحاد: 6 باب خبر المرأة الواحدة»
حدیث نمبر: 1273
1273 صحيح حديث خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى مَيْمُونَةَ، وَهِيَ خَالَتُهُ، وَخَالَةُ ابْن عَبَّاسٍ، فَوَجَدُ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا، حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحارِثِ، مِنْ نَجْدٍ فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ، قَلَّمَا يُقَدِّمُ يَدَهُ لِطَعَامٍ، حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ فَأَهْوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ: أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ، هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللهِ فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَدَهُ عَنِ الضَّبِّ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: لاَ، وَلكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيَّ
مولانا داود راز
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رسول اللہ کے ساتھ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے۔ ام المومنین ان کی اور ابن عباس رضی اللہ عنہماکی خالہ تھیں۔ ان کے یہاں بھنی ہوئی گوہ موجود تھی جو ان کی بہن حفیدہ بنت الحارث رضی اللہ عنہ نجد سے لائی تھیں۔ انہوں نے وہ بھنی ہوئی گوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی۔ ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کھانے کے لئے اس وقت تک ہاتھ بڑھائیں جب تک آپ کو اس کے متعلق بتا نہ دیا جائے کہ یہ فلانا کھانا ہے لیکن اس دن آپ نے بھنی ہوئی گوہ کے گوشت کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اتنے میں وہاں موجود عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا کیوں نہیں دیتیں کہ اس وقت آپ کے سامنے جو تم نے پیش کیا ہے وہ گوہ ہے، یا رسول اللہ!۔ (یہ سن کر) آپ نے اپنا ہاتھ گوہ سے ہٹا لیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بولے کہ یا رسول اللہ!کیا گوہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں لیکن یہ میرے ملک میں چونکہ نہیں پائی جاتی اس لئے طبیعت پسند نہیں کرتی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے کھایا۔ اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ رہے تھے۔
وضاحت:
راوي حدیث:… حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ ٓپ کی والدہ لبابہ الصغری ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں آپ کا تعلق مخزوم قبیلہ سے تھا۔ جاہلیت میں قریش کے سرداروں میں شمار کیے جاتے تھے۔ غزوہ احد میں جبکہ آپ مشرکین مکہ کے لشکر کے سپہ سالار تھے آپ ہی کی چال سے مسلمانوں کی فتح شکست میں بدل گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو سیف اللہ کا خطاب دیا تھا۔ آپ جس غزوے میں بھی گئے تو اللہ تعالیٰ نے فتح و کامرانی سے ہمکنار کیا حتیٰ کہ حضرت عمر کے زمانہ میں لوگوں کا یہ عقیدہ بنتا جا رہا تھا کہ فتح خالد بن الولید کا اپنا ہنر اور فن ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو کہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرنے والے اور موحد تھے نے انہیں معزول کر دیا لیکن آپ ایک سپاہی کی حیثیت سے جہاد میں حصہ لیتے رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ میرے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جس پر زخم نہ آیا ہو مگر شہادت کا جذبہ رکھنے کے باوجود ۲۱ ہجری کو بستر پر فوت ہوئے۔ اور اس حدیث کے مصداق ٹھہرے کہ جس نے خالص شہادت کی نیت سے جہاد کیا وہ شہید ہے خواہ بستر پر موت آئے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان / حدیث: 1273
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 70 كتاب الأطعمة: 10 باب ما كان النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا يأكل حتى يسمى له فيعلم ما هو»
حدیث نمبر: 1274
1274 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ، خَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَقِطًا وَسَمْنًا وَأَضُبًّا، فَأَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَقِطِ وَالسَّمْنِ، وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ حَرَامًا مَا أُكلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مولانا داود راز
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کی خالہ ام حفید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پنیر، گھی اور گوہ (ساہنہ) کے تحائف بھیجے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر اور گھی میں سے تو تناول فرمایا لیکن گوہ پسند نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ دی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (اسی) دستر خوان پر (گوہ کو بھی) کھایا گیا اور اگر وہ حرام ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر کیوں کھائی جاتی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان / حدیث: 1274
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 7 باب قبول الهدية»