کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: غزوۂ احزاب یعنی جنگ خندق کا بیان
حدیث نمبر: 1182
1182 صحيح حديث الْبَرَاءِ رضي الله عنه، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَحْزَابِ يَنْقُلُ التُّرابَ، وَقَد وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَاوَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَافَأَنْزِلِ السَّكِينَةَ عَلَيْنَاوَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَاإِنَّ الأُلَى قَد بَغَوْا عَلَيْنَاإِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا
مولانا داود راز
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوۂ احزاب (خندق) کے موقع پر دیکھا کہ آپ ﷺ مٹی (خندق کھودنے کی وجہ سے جو نکلتی تھی) خود ڈھو رہے تھے، مٹی سے آپ کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی اور آپ یہ شعر کہہ رہے تھے۔ تو ہدایت گر نہ ہوتا تو کہاں ملتی نجات ... کیسے پڑھتے ہم نمازیں ...کیسے دیتے ہم زکوٰۃ ... اب اتار ہم پر تسلی اے شہ عالیٰ... صفا تپاؤں جموا دے ہمارے، دے لڑائی میں ثبات ... بے سبب ہم پر یہ کافر ظلم سے چڑھ آتے ہیں... جب وہ بہکائیں ہمیں سنتے نہیں ہم ان کی بات.
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجهاد / حدیث: 1182
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 34 باب حفر الخندق»
حدیث نمبر: 1183
1183 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَادِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَهْفَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ
مولانا داود راز
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی’’ اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں، پس انصار اور مہاجرین کی تو مغفرت فرما۔‘‘
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجهاد / حدیث: 1183
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 9 باب دعاء النبي صلی اللہ علیہ وسلم أصلح الأنصار والمهاجرة»
حدیث نمبر: 1184
1184 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِفَأَصْلِحِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ
مولانا داود راز
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خندق کھودتے وقت) فرمایا : حقیقی زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے، پس اے اللہ! انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجهاد / حدیث: 1184
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 9 باب دعاء النبي صلی اللہ علیہ وسلم أصلح الأنصار والمهاجرة»
حدیث نمبر: 1185
1185 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَتِ الأَنْصَارُ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ، تَقُولُ: نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًاعَلَى الْجِهَادِ مَا حَيينَا أَبَدًافَأَجَابَهُمُ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: اللهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَهْفَأَكْرِمِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
مولانا داود راز
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار خندق کھودتے ہوئے (غزوہ خندق کے موقع پر) کہتے تھے۔ ’’ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لئے، جب تک ہمارے جسم میں جان ہے۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر جواب میں یوں فرمایا: ’’اے اللہ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے، پس تو(آخرت میں) انصار اور مہاجرین کا اکرام فرمانا۔‘‘
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجهاد / حدیث: 1185
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 110 باب البيعة في الحرب أن لا يفروا»