کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: غزوۂ خیبر کا بیان
حدیث نمبر: 1180
1180 صحيح حديث أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلاَةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَى نَبِيُّ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ حَسَرَ الإِزَارَ عَنْ فَخْذِهِ حَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ فَخِذَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ، قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَهَا ثَلاَثًا قَالَ: وَخَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ، فَقَالُوا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ (يَعْنِي الْجَيْشَ) قَالَ: فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً
مولانا داود راز
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ خیبر میں تشریف لے گئے۔ ہم نے وہاں فجر کی نماز اندھیرے ہی میں پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ابو طلحہ بھی سوار ہوئے، میں ابو طلحہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کا رخ خیبر کی گلیوں کی طرف کر دیا۔ میرا گھٹنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چھو جاتا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران سے تہبند کو ہٹایا۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاف اور سفید رانوں کی سفیدی اور چمک دیکھنے لگا۔ جب آپ خیبر کی بستی میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اکبر ’’اللہ سب سے بڑا ہے‘‘، خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے آنگن میں اتر جائیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہو جاتی ہے۔ آپ نے یہ تین مرتبہ فرمایا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خیبر کے یہودی لوگ اپنے کاموں کے لیے باہر نکلے ہی تھے کہ وہ چلا اٹھے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آن پہنچے۔ پس ہم نے خیبر لڑ کر فتح کر لیا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجهاد / حدیث: 1180
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 12 باب ما يذكر في الفخذ»
حدیث نمبر: 1181
1181 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ رضي الله عنه، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَسِرْنَا لَيْلاً، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، لِعَامِرٍ: يَا عَامِرُ أَلاَ تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلاً شَاعِرًا، فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ، يَقُولُ: اَللَّهُمَ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَاوَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَافَاغْفِرْ، فِدَاءً لَكَ، مَا أَبْقَيْنَاوَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَاوَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَاإِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَبَيْنَاوَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَافَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ هذَا السَّائِقُ قَالُوا: عَامِرُ بْنُ الأَكْوعِ قَالَ: يَرْحَمُهُ الله قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَتْ يَا نَبِيَّ اللهِ لَوْلاَ أَمْتَعْتَنَا بِهِ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ ثُمَّ إِنَّ اللهَ تَعَالَى فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا أَمْسى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْم الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ توقِدُونَ قَالُوا: عَلَى لَحْمٍ قَالَ: عَلَى أَيِّ لَحْمٍ قَالُوا: لَحْمُ حُمُرِ الإِنْسِيَّةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا؛ قَالَ: أَوْ ذَاكَ فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ قَصِيرًا، فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ، فَأَصَابَ عَيْنَ رُكْبَةِ عَامِرٍ، فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ: فَلَمَّا قَفَلُوا، قَالَ سَلَمَةُ: رَآنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي، قَالَ: مَا لَكَ قلْتُ لَهُ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لأَجْرَيْنِ وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ: إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ، قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشى بِهَا مِثْلَهُ
مولانا داود راز
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ رات کے وقت ہمارا سفرجاری تھا کہ ایک صاحب (اسید بن حضیر) نے عامر سے کہا‘ عامر ! اپنے کچھ شعر سناؤ‘ عامر شاعر تھا۔ اس فرمائش پر وہ سواری سے اتر کر حدی خوانی کرنے لگے۔ کہا ’’اے اللہ ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا‘ نہ ہم صدقہ کر سکتے اور نہ ہم نماز پڑھ سکتے ۔ پس ہماری جلدی مغفرت کر‘ جب تک ہم زندہ ہیں ہماری جانیں تیرے راستے میں فدا ہیں اور اگر ہماری مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت رکھ ہم پر سکینت نازل فرما‘ ہمیں جب (باطل کی طرف) بلایا جاتا ہے تو ہم انکار کر دیتے ہیں‘ آج چلا چلا کر وہ ہمارے خلاف میدان میں آئے ہیں‘‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون شعر کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عامر بن اکوع‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ نے تو انہیں شہادت کا مستحق قرار دے دیا‘ کاش! ابھی اور ہمیں ان سے فائدہ اٹھانے دیتے۔ پھر ہم خیبر آئے اور قلعہ کا محاصرہ کیا اس کے دوران ہمیں سخت تکالیف اور فاقوں سے گزرنا پڑا آخر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی۔ جس دن قلعہ فتح ہونا تھا، اس رات لشکر میں جگہ جگہ آگ جل رہی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ آگ کیسی ہے‘ کس چیز کے لئے اسے جگہ جگہ جلا رکھا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ بولے کہ گوشت پکانے کے لئے۔ یہ آپ نے دریافت فرمایا کہ کس جانور کا گوشت ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ پالتو گدھوں کا‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام گوشت پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ دو‘ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ!ایسا کیوں نہ کر لیں کہ گوشت تو پھینک دیں اور ہانڈیوں کو دھولیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی کر لو پھر دن میں جب صحابہ رضی اللہ عنہ نے جنگ کے لئے صف بندی کی تو چونکہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی‘ اس لئے انہوں نے جب ایک یہودی کی پنڈلی پر (جھک کر) وار کرنا چاہا تو خود انہیں کی تلوار کی دھار سے ان کے گھٹنے کا اوپر کا حصہ زخمی ہوگیا اور ان کی شہادت اسی میں ہوگئی، سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ پھر جب لشکر واپس ہو رہا تھا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا‘ کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عامر رضی اللہ عنہ کا سارا عمل اکارت ہوگیا (کیونکہ خود اپنی ہی تلوار سے ان کی وفات ہوئی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹا ہے وہ شخص جو اس طرح کی باتیں کرتا ہے‘ انہیں تو دوہرا اجر ملے گا، پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ایک ساتھ ملایا‘ انہوں نے تکلیف اور مشقت بھی اٹھائی اور اللہ کے راستے میں جہاد بھی کیا‘ شاید ہی کوئی عربی ہو‘ جس نے ان جیسی مثال قائم کی ہو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجهاد / حدیث: 1181
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 38 باب غزوة خيبر»