کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: صلح حدیبیہ کا بیان
حدیث نمبر: 1167
1167 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ، كَتَبَ عَلِيٌّ بَيْنَهُمْ كِتَابًا، فَكَتَبَ: مُحَمَّدٌّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لاَ تَكْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُول اللهِ، لَوْ كُنْتَ رَسُولاً لَمْ نُقَاتِلْكَ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ: امْحُهُ فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ فَمَحَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَدْخُلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، وَلاَ يَدْخُلُوهَا إِلاَّ بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ فَسَأَلُوهُ: مَا جُلُبَّانُ السِّلاَحِ فَقَالَ: الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ
مولانا داود راز
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کی صلح (قریش سے) کی تو اس کی دستاویز حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لکھی تھی۔ انھوں نے اس میں لکھا محمد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔ مشرکین نے اس پر اعتراض کیا کہ لفظ محمد کے ساتھ رسول اللہ نہ لکھو، اگر آپ رسول اللہ ہوتے تو ہم آپ سے لڑتے ہی کیوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹا دو، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا کہ میں تو اسے نہیں مٹا سکتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے مٹا دیا اور مشرکین کے ساتھ اس شرط پر صلح کی کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ آئندہ سال تین دن کے لیے مکہ آئیں اور ہتھیار میان میں رکھ کر داخل ہوں، حضرت براء سے ان کے شاگردوں نے پوچھا کہ ’’جلبان السلاح‘‘ جس کا یہاں ذکر کیا ہے کیا چیز ہوتی ہے؟ تو انھوں نے بتایا کہ میان اور جو چیز اس کے اندر ہوتی ہے اس کا نام جلبان ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجهاد / حدیث: 1167
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 53 كتاب الصلح: 6 باب كيف يكتب هذا ما صالح فلان بن فلان»
حدیث نمبر: 1168
1168 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كُنَّا بِصِفِّينَ، فَقَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ، فَإِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالاً لَقَاتَلْنَا، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ فَقَالَ: بَلَى فَقَالَ: أَلَيْسَ قَتْلاَنَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلاَهُمْ فِي النَّارِ قَالَ: بَلَى قَالَ: فَعَلَى مَا نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا أَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ: ابْنَ الْخطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي الله أَبَدًا فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَقَالَ: إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللهُ أَبَدًا فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ، فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَو فَتْحٌ هُوَ قَالَ: نَعَمْ
مولانا داود راز
حضرت ابو وائل نے بیان کیا کہ ہم مقام صفین میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ پھر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو! تم خود اپنی رائے کو غلط سمجھو۔ ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ٗ اگر ہمیں لڑنا ہوتا تو اس وقت ضرور لڑتے۔ عمر رضی اللہ عنہ اس موقع پر آئے (یعنی حدیبیہ میں) اور عرض کیا، یا رسول اللہ ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہیں! عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٗ کہ کیوں نہیں! پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم اپنے دین کے معاملے میں پھر کیوں دبیں؟ کیا ہم (مدینہ) واپس چلے جائیں گے اور ہمارے اور ان کے درمیان اللہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی برباد نہیں کرے گا۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے وہی سوالات کئے ٗ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابھی کر چکے تھے۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور اللہ انہیں کبھی برباد نہیں ہونے دے گا۔ پھر سورۂ فتح نازل ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اسے آخر تک پڑھ کر سنایا ٗ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ کیا یہی فتح ہے؟‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! بلا شک یہی فتح ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجهاد / حدیث: 1168
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 58 كتاب الجزية: 18 باب حدثنا عبدان»