حدیث نمبر: 1153
1153 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ، يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ: ذلِكَ أُرِيدُ ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ، يَا أَبَا الْقَاسِمِ ثُمَّ قَالَ الثَّالِثَةَ؛ فَقَالَ: اعْلَمُوا أَنَّ الأَرْضَ للهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلاَّ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الأَرْضُ للهِ وَرَسُولِهِ
مولانا داود راز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم مسجد میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو۔ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور جب ہم ’’بیت المدراس‘‘ کے پاس پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی، اے قوم یہود!اسلام لاؤ تم محفوظ ہو جاؤ گے۔ یہودیوں نے کہا ابو القاسم!آپ نے پہنچا دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا بھی یہی مقصد ہے، پھر آپ نے دوبارہ یہی فرمایا اور یہودیوں نے کہا کہ ابو القاسم آپ نے پہنچا دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی فرمایا۔ اور پھر فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تمہیں جلاوطن کرتا ہوں۔ پس تم میں سے جس کے پاس مال ہو اسے چاہئے کہ جلاوطن ہونے سے پہلے اسے بیچ دے ورنہ جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔
حدیث نمبر: 1154
1154 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَارَبَتِ النَّضِيرُ وَقُرَيْظَةُ، فَأَجْلَى بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ، حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلاَدَهُمْ وَأَمْوالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلاَّ بَعْضَهُمْ، لَحِقُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَهُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَى يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ، بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَهُمْ رَهْطُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ، وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِ الْمَدِينَةِ
مولانا داود راز
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (معاہدہ توڑ کر) لڑائی مول لی۔ اس لیے آپ نے قبیلہ بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا لیکن قبیلہ بنو قریظہ کوجلا وطن نہیں کیااور اس طرح ان پر احسان فرمایا، پھربنو قریظہ نے بھی جنگ مول لی، اس لیے آپ نے ان کے مردوں کو قتل کروا دیا اور ان کی عورتوں ، بچوں اور مال کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔ صرف بعض بنی قریظہ اس سے الگ قرار دئیے گئے تھے کیونکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آگئے تھے اس لیے آپ نے انہیں پناہ دی اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کر دیا تھا۔ بنو قینقاع کو بھی جو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا، یہود بنی حارثہ کو اور مدینہ کے تمام یہودیوں کو۔