کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: لوٹ کا بیان
حدیث نمبر: 1142
1142 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً، فِيهَا عَبْدُ اللهِ، قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلاً كَثِيرًا، فَكَانَتْ سِهَامُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا؛ وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا
مولانا داود راز
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماکی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابھی لشکر کے ساتھ تھے۔ غنیمت کے طور پر اونٹوں کی ایک بڑی تعداد اس لشکر کو ملی۔ اس لئے اس کے ہر سپاہی کو حصے میں بارہ بارہ یاگیارہ گیارہ اونٹ ملے تھے اور ایک ایک اونٹ مزید انعام میں ملا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجهاد / حدیث: 1142
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 15 باب ومن الدليل على أن الخمس لنوائب [ص:205] المسلمين»
حدیث نمبر: 1143
1143 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً، سِوَى قِسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ
مولانا داود راز
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض مہموں کے موقع پر اس میں شریک ہونے والوں کو غنیمت کے عام حصوں کے علاوہ (خمس وغیرہ میں سے) اپنے طور پر بھی دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجهاد / حدیث: 1143
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 15 باب ومن الدليل على أن الخمس لنوائب المسلمين»