کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: جن کفار کو دعوت اسلام دی جا چکی ہو ان پر بغیر اطلاع کے حملہ کیا جا سکتا ہے
حدیث نمبر: 1129
1129 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ، وَسَبَى ذَرَارِيَّهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ
مولانا داود راز
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو المصطلق پر جب حملہ کیا تو وہ بالکل غافل تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے۔ ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا گیا، اور عورتوں بچوں کو قید کرلیا گیا انھیں قیدیوں میں جویریہ رضی اللہ عنہ (ام المومنین) بھی تھیں۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماخود بھی اسلامی فوج کے ہمراہ تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجهاد / حدیث: 1129
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 49 كتاب العتق: 13 باب من ملك من العرب رقيقًا»