کتب حدیث ›
اللؤلؤ والمرجان › ابواب
› باب: غلط باتوں اور نئی باتوں کے ابطال کا بیان جو دین میں نکالی جائیں
حدیث نمبر: 1120
1120 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ
مولانا داود راز
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے دین میں از خود کوئی ایسی چیز نکالی جو اس میں نہیں تھی تو وہ رد ہے۔
وضاحت:
یہ حدیث شریعت کی اصل الاصول ہے۔ اس سے ان تمام بدعات کا جو لوگوں نے دین میں نکال رکھی ہیں، مکمل رد ہوتا ہے۔ جیسے فاتحہ، سوئم، چہلم، شب برات کا حلوہ، محرم کا کھچڑا، تعزیہ، مولود، عرس، قبروں پر غلاف و پھول ڈالنا وغیرہ وغیرہ۔ ان امور کا شمار بدعات میں اس وجہ سے ہے کہ زمانہ رسالت اور زمانہ صحابہ و تابعین میں ان کا کوئی وجود نہیں ملتا۔ (راز)