کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: قاضی کو غصے کی حالت میں فیصلہ کرنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 1119
1119 صحيح حديث أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ، وَكَانَ بِسِجِسْتَانَ، بِأَنْ لاَ تَقْضِيَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ يَقْضِيَنَّ حَكَمٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ
مولانا داود راز
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے (عبید اللہ) کو لکھا اور وہ اس وقت سجستان میں تھے کہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرنا جب تم غصہ میں ہو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ کوئی ثالث دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرے جب وہ غصہ میں ہو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الأقضية / حدیث: 1119
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 13 باب هل يقضي الحاكم أو يفتي وهو غضبان»