کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: دو مالکوں کے مشترکہ غلام کو آزاد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1082
1082 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ، قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ، وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ
مولانا داود راز
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام کے اپنے حصے کو آزاد کیا اور اس کے پاس غلام کی پوری قیمت ادا کرنے کے لیے مال بھی ہے تو پورا غلام اسے آزاد کرانا لازم ہے، لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے پورے غلام کی صحیح قیمت ادا کی جاسکے تو پھر غلام کاجو حصہ آزاد ہو گیا وہی آزاد ہوا ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الأيمان / حدیث: 1082
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 49 كتاب العتق: 4 باب إذا أعتق عبدًا بين اثنين»
حدیث نمبر: 1083
1083 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا مِنْ مَمْلُوكِهِ، فَعَلَيْهِ خَلاَصُهُ فِي مَالِهِ؛ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْمَمْلُوكُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ اسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ
مولانا داود راز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مال سے غلام کو پوری آزادی دلا دے، لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگائی جائے ،پھر غلام سے کہا جائے کہ اپنی (آزادی کی) کوشش میں وہ باقی حصے کی قیمت خود کما کر ادا کر لے، لیکن غلام پر اس کے لیے کوئی دباؤ نہ ڈالا جائے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الأيمان / حدیث: 1083
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 47 كتاب الشركة: 5 باب تقويم الأشياء بين الشركاء بقيمة عدل»