کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1066
1066 صحيح حديث عُمَرَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ قَالَ عُمَرُ: فَوَاللهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا
مولانا داود راز
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا واللہ!پھر میں نے ان کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت سننے کے بعد کبھی قسم نہیں کھائی نہ اپنی طرف سے غیر اللہ کی قسم کھائی نہ کسی دوسرے کی زبان سے نقل کی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الأيمان / حدیث: 1066
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 83 كتاب الأيمان: 4 باب لا تحلفوا بآبائكم»
حدیث نمبر: 1067
1067 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي رَكْبٍ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَنَادَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلاَ إِنَّ اللهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللهِ، وَإِلاَّ فَلْيَصْمُتْ
مولانا داود راز
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے جو چند سواروں کے ساتھ تھے، اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ پنے والد کی قسم کھا رہے تھے۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکار کر کہا، آگاہ رہو، یقینا اللہ پاک تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ داداؤں کی قسم کھاؤ، پس اگر کسی کو قسم ہی کھانی ہے تو وہ اللہ کی قسم کھائے، ورنہ چپ رہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الأيمان / حدیث: 1067
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 74 باب من لم ير إكفار من قال ذلك متأولاً أو جاهلا»