کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: صدقہ دے کر دوبارہ اس سے وہی چیز خریدنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 1045
1045 صحيح حديث عُمَرَ رضي الله عنه، قَالَ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ، فَأَرَدْت أَنْ أَشْتَرِيَهُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَبِيعُهُ بِرخْصٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: لاَ تَشْتَرِ، وَلاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
مولانا داود راز
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک شخص کو سواری کے لیے دے دیا، لیکن اس شخص نے گھوڑے کو خراب کر دیا، اس لیے میں نے چاہا کہ اسے خرید لوں میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ اسے سستے داموں بیچ ڈالے گا، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا صدقہ واپس نہ لو، خواہ وہ تمھیں ایک درہم ہی میں کیوں نہ دے کیونکہ دیا ہوا صدقہ واپس لینے والے کی مثال قے کرکے چاٹنے والے کی سی ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الهبات / حدیث: 1045
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 59 باب هل يشتري صدقته»
حدیث نمبر: 1046
1046 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَوَجَدَهُ يُبَاعُ، فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: لاَ تَبْتَعْهُ وَلاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ
مولانا داود راز
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں اپنا ایک گھوڑا سواری کے لئے دے دیا تھا۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ وہی گھوڑا بک رہا ہے۔ اپنے گھوڑے کو انہوں نے خریدنا چاہااور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے نہ خریدو، اور اس طرح اپنے صدقہ کو واپس نہ لو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الهبات / حدیث: 1046
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 119 باب الجعائل والحملان في السبيل»