کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: کتے ہلاک کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 1011
1011 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ
مولانا داود راز
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم فرمایا ہے۔
وضاحت:
شکار کے لیے یا گھر بار کی رکھوالی کے لیے کتے پالنے کی اجازت دی گئی ہے۔ پاگل کتے یا جو کتنے انسانوں کے دشمن ہوں اور کاٹنے کے لیے دوڑتے ہوں، انھیں مارنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساقاة / حدیث: 1011
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 17 باب إذا وقع الذباب في شراب أحدكم»
حدیث نمبر: 1012
1012 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ ضَارٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ
مولانا داود راز
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماسے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا کتا پالا جو نہ مویشی کی حفاظت کے لئے ہے اور نہ شکار کرنے کے لئے تو روزانہ اس کی نیکیوں میں سے دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساقاة / حدیث: 1012
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 6 باب من اقتنى كلبًا ليس بكلب صيد أو ماشية»
حدیث نمبر: 1013
1013 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَمْسَك كَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطٌ، إِلاَّ كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ
مولانا داود راز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی کتا رکھا، اس نے روزانہ اپنے عمل سے ایک قیراط کی کمی کر لی۔ البتہ کھیتی یا مویشی (کی حفاظت کے لئے) کتے اس سے الگ ہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساقاة / حدیث: 1013
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 41 كتاب المزارعة: 3 باب اقتناء الكلب للحرث»
حدیث نمبر: 1014
1014 صحيح حديث سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لاَ يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلاَ ضَرْعًا، نَقَصَ كلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطٌ
مولانا داود راز
حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ جس نے کتا پالا، جو نہ کھیتی کے لیے ہے اور نہ مویشی کے لیے تو اس کی نیکیوں سے روزانہ ایک قیراط کم ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساقاة / حدیث: 1014
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 41 كتاب المزارعة: 3 باب اقتناء الكلب للحرث»