کتب حدیث ›
اللؤلؤ والمرجان › ابواب
› باب: تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا حرام ہے مگر عریہ میں درست ہے
حدیث نمبر: 985
985 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا
مولانا داود راز
سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب عریہ کو اس کی اجازت دی کہ اپنا عریہ اس کے اندازے برابر میوے کے بدل بیچ ڈالے۔
حدیث نمبر: 986
986 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَهى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا
مولانا داود راز
سیّدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کو اتری ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا البتہ عریہ کی آپ نے اجازت دی کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے کہ عریہ والے اس کے بدل تازہ کھجور کھائیں
حدیث نمبر: 987
987 صحيح حديث رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَهى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، إِلاَّ أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ
مولانا داود راز
سیّدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ور سیّدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا عریہ کرنے والوں کے علاوہ کہ انہیں آپ نے اجازت دے دی تھی۔
حدیث نمبر: 988
988 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم میں بیع عریہ کی اجازت دی ہے۔
وضاحت:
اوسق وسق کی جمع ہے وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور ایک صاع پانچ رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 989
989 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَهى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً، وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْكَرْمِ كَيْلاً
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا مزابنہ یہ کہ درخت پر لگی ہوئی کھجور خشک کھجور کے بدلے ماپ کر بیچی جائے اسی طرح بیل پر موجود انگور کو منقی کے بدلے بیچا جائے۔
حدیث نمبر: 990
990 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ المُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَ نَخْلاً بِتَمْرٍ كَيْلاً، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلاً، أَوْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامِ، وَنَهى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا یعنی باغ کے پھلوں کو اگر وہ کھجور ہیں تو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے اور اگر انگور ہیں تو اسے خشک انگور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے اور اگر وہ کھیتی ہے تو ناپ کر غلہ کے بدلے بیچا جائے آپ نے ان تمام قسموں کے لین دین سے منع فرمایا ہے۔