کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: قبضہ سے پہلے دوسرے کے ہاتھ بیچنا درست نہیں ہے
حدیث نمبر: 975
975 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَمَّا الَّذِي نَهى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلاَ أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلاَّ مِثْلَهُ
مولانا داود راز
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع فرمایا تھا وہ اس غلہ کی بیع تھی جس پر ابھی قبضہ نہ کیا گیا ہو سیّدنا ابن عباس نے فرمایا میں تو تمام چیزوں کو اسی کے حکم میں سمجھتا ہوں۔ (یعنی کہ کوئی بھی چیز جب خریدی جائے تو قبضہ کرنے سے پہلے اسے نہ بیچا جائے)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب البيوع / حدیث: 975
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 55 باب بيع الطعام قبل أن يقبض وبيع ما ليس عندك»
حدیث نمبر: 976
976 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبيعُهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص کسی قسم کا غلہ خریدے تو جب تک اس پر پوری طرح قبضہ نہ کر لے اسے نہ بیچے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب البيوع / حدیث: 976
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 51 باب الكيل على البائع والمعطي»
حدیث نمبر: 977
977 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ فِي أَعْلَى السُّوقِ فَيَبِيعُونَهُ فِي مَكَانِهِمْ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكانِهِ حَتَّى يَنْقُلُوه
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ لوگ بازار کی بلند جانب جا کر غلہ خریدتے اور وہیں بیچنے لگے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ غلہ وہاں نہ بیچیں جب تک اس کو اٹھوا کر دوسری جگہ نہ لے جائیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب البيوع / حدیث: 977
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 72 باب منتهى التلقي»