کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: آگے بڑھ کر تاجروں سے ملنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 972
972 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُحَفَّلَةً فَرَدَّهَا فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا؛ وَنَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُلَقَّى الْبُيُوعُ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص مصرا بکری خریدے اور اسے واپس کرنا چاہے تو (اصل مالک کو) اس کے ساتھ ایک صاع بھی دے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے (جو مال بیچنے کو لائیں) آگے بڑھ کر خریدنے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
یہ مصرہ کی معنی میں ہے یعنی وہ بکری یا گائے یا اونٹنی جس کا مالک کئی دن نہ دوہے حتی کہ اس کا دودھ تھنوں میں جمع ہو جاتا ہے جب خریدنے والا دوہتا ہے تو اسے زیادہ دودھ والی خیال کرتے ہوئے قیمت زیادہ لگاتا ہے لیکن کچھ دنوں کے بعد پتا چلتا ہے کہ یہ تو دھوکا ہوا ہے چونکہ اس کا دودھ جمع کیا ہوتا ہے اس لیے اسے محفلہ کہتے ہیں۔(مرتبؒ)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب البيوع / حدیث: 972
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 64 باب النهي للبائع أن لا يحفِّل الإبل والبقر والغنم وكل محفَّلة»