حدیث نمبر: 965
965 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهى عَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا۔
وضاحت:
یوں کہے کہ جب تو میرے کپڑے کو ہاتھ لگائے گا یا میں تیرے کپڑے کو ہاتھ لگاؤں گا تو بیع واجب ہو جائے گی۔ بعض نے اس کی تعریف یوں کی ہے کہ سامان کو کپڑے کے پیچھے سے ٹٹولے لیکن اس کی طرف دیکھے نہیں اس طرح بیع واقع ہو جائے۔ پھینکنے کو بیع کے وقوع کا سبب بنائیں اس طرح کہ ایک کہے کہ میں اپنا کپڑا تیری طرف دس درہم کے بدلے پھینک رہا ہوں اور دوسرا اسے پکڑ لے۔ یا یوں کہے کہ میں تجھے یہ چیز اتنے کی بیچتا ہوں اس شرط پر کہ جب تیری طرف پھینکوں گا تو بیع لازم ہو جائے گی اور اختیار ختم ہو جائے گا۔(مرتبؒ)
حدیث نمبر: 966
966 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: يُنْهى عَنْ صِيَامَيْنِ وَبَيْعَتَيْنِ؛ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ، وَالْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزے اور دو قسم کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے روزے سے اور ملا مست اور منابذت کے ساتھ خرید و فروخت کرنے سے۔
حدیث نمبر: 967
967 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ: نَهى عَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ فِي الْبَيْعِ؛ وَالْمُلاَمَسَةُ لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ أَوْ بِالنَّهَارِ وَلاَ يُقَلِّبُهُ إِلاَّ بِذلِكَ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ وَيَنْبِذَ الآخَرُ ثَوْبَهُ، وَيَكُونَ ذلِكَ بَيْعَهُمَا مِنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلاَ تَرَاضٍ وَاللِّبْسَتَيْنِ: اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ؛ وَالصَّمَّاءُ أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهُ عَلَى أَحَدِ عَاتِقَيْهِ، فَيَبْدُوَ أَحَدُ شِقَّيْهِ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ، وَاللِّبْسَةُ الأُخْرَى احْتِبَاؤُهُ بِثَوْبِهِ وَهُوَ جَالِسٌ لَيْسَ علَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ
مولانا داود راز
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا خرید و فروخت میں ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ملامسہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص (خریدار) دوسرے (بیچنے والے) کے کپڑے کو رات یا دن میں کسی بھی وقت بس چھو دیتا (اور دیکھے بغیر صرف چھونے سے بیع ہو جاتی) صرف چھونا ہی کافی تھا کھول کر دیکھا نہیں جاتا تھا منابذہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص اپنی ملکیت کا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکتا اور دوسرا اپنا کپڑا پھینکتا اور بغیر دیکھے اور بغیر باہمی رضا مندی کے صرف اسی سے بیع منعقد ہو جاتی اور دو کپڑے (جنہیں پہننے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ایک) اشتمال صماء ہے صماء کی صورت یہ تھی کہ اپنا کپڑا (ایک چادر) اپنے ایک شانے پر اس طرح ڈالا جاتا کہ ایک کنارہ سے (شرمگاہ) کھل جاتی اور کوئی دوسرا کپڑا وہاں نہیں ہوتا تھا دوسرے پہناوے کا طریقہ یہ تھا کہ بیٹھ کر اپنے ایک کپڑے سے کمر اور پنڈلی باندھ لیتے تھے اور شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہیں ہوتا تھا۔